مسائل ملت
Urdu book, p. 133
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوئے صرف نجاشی کے سامنے اپنی بات پیش کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نجاشی نے مکمل طور پر مسلمانوں کے حق میں اپنا فیصلہ دے دیا۔ اس نے مشرکین مکہ کے وفد کو دربار سے نکال دیا۔ اور مسلمانوں سے کہا کہ تم لوگ جب تک چاہو حبش میں عزت کے ساتھ رہ ہو۔ یہاں سے نکلنے پر تمہیں کوئی مجبور نہیں کر سکتا (سیرۃ ابن کثیر جلد ثانی) حرف آخر یہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے۔ مقابلہ کی یہ صورت حال ہمیشہ باقی رہے گی ، کیوں کہ اس کو کسی " دشمن اسلام " نے قائم نہیں کیا ہے۔ بلکہ اس کو خود خدا نے اپنی دنیا میں قائم کیا ہے۔ اس لئے مخالفین کی سازش اور فساد کو لے کر اس کے خلاف فریاد کرنا سراسر احمقانہ ہے۔ اس قسم کی فریاد کسی کے کچھ کام آنے والی نہیں۔ اس دنیا میں کرنے کا کام صرف یہ ہے کہ حالات کو سمجھا جائے ۔ " مخالفین " کے منصوبوں کو جان کر ان کے خلاف حکیمانہ انداز میں جوابی منصوبہ بندی کی جائے ۔ مخالف حالات کو اپنے موافق بنانے کی کوشش کی جائے ۔ ہر پیش آنے والے عُسر کو یُسر کی طاقت سے زیر کیا جائے ۔ اس دنیا میں کامیابی اس شخص کے لئے ہے جو مشکل کو اپنی غذا بنا سکے ، جو ناکامی کو کامیابی میں تبدیل کر سکے۔ جن لوگوں کے اندر یہ صلاحیت نہ ہو ، ان کے لئے صرف یہ انجام مقدر ہے کہ وہ حالات کے خلاف بے فائدہ احتجاج کرتے رہیں ، یہاں تک کہ تاریخ کے قبرستان میں ہمیشہ کے لئے دفن ہو جائیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader