مسائل ملت
Urdu book, p. 133
By Maulana Wahiduddin Khan
صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی ایک تعداد مکہ سے ہجرت کر کے سمندر پار کے ملک حبش چلی گئی تھی۔ وہاں ان کے لئے عوام اور مذہبی طبقہ کی طرف سے اسی قسم کے مسائل پیدا ہوئے جو ہم کو ہندوستان میں درپیش ہیں۔ مگر یہ مسائل جب وہاں کے خواص کے سامنے آئے تو انتہائی انصاف کے ساتھ یہ مسائل مسلمانوں کے حق میں طے کر دئے گئے۔ مسلمان جب حبش کے ساحل پر اتلے تو وہاں کے باشندے سے خارجی ہونے کی بنا پر ان کو حقیرا سمجھتے تھے اور انہیں پریشان کرتے تھے۔ یہ مسلمان اگر مشتعل ہو کر عوام کے خلاف ای کی ٹیشن کرتے تو نتیجہ برعکس نکلتا۔ مسلمان اقلیت میں تھے اور مقامی عوام اکثریت میں ، اس لئے مسئلہ بڑھتا اور مسلمانوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہو جاتا۔ مگر مسلمانوں نے عوامی سطح پر شکایت اور احتجاج سے کامل پر ہیز کیا۔ وہ ان سے اعراض کرتے ہوئے اپنا کام کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ایک وقت آیا جب کہ ان کو بادشاہ وقت نجاشی کے دربار میں جانے کا موقع ملا۔ نجاشی نے ان سے پوچھا کہ کیا حبش میں کوئی تم کو ستاتا ہے۔ مسلمانوں نے کہا کہ ہاں۔ نجاشی نے فیصلہ دیا کہ جو شخص مسلمانوں کو ستائے ، اس سے چار درھم بطور جرمانہ وصول کر کے مظلوم مسلمان کو دیا جائے ۔ اس کے بعد اس نے مسلمانوں سے پوچھا کہ کیا اتنا جرمانہ کافی ہے۔ مسلمانوں نے کہا کہ نہیں۔ نجاشی نے دوبارہ فیصلہ دیا اور جرمانہ کی مقدار بڑھا کر آٹھ درهم کردی (حياة الصحابه ، الجزء الاول ، صفحه ۳۵۵) اسی ہجرت کا دوسرا واقعہ یہ ہے کہ صحابہ کرام جب مکہ سے حبش پہنچے تو مکہ کے مشرکین نے اپنا ایک وفد حبش بھیجا تا کہ وہ مسلمانوں کو وہاں سے واپس لائے۔ مشرکین کے وفد نے حبش پہنچ کر وہاں کے مذہبی طبقہ سے ملاقاتیں کیں اور آخر میں نجاشی کے دربار میں حاضر ہوئے۔ مشرکین مکہ کے وفد کی باتوں کو سن کر وہاں کے مذہبی پیشواؤں کا گروہ ( بگڑا ہوا ند ہی طبقہ ) ان کا حامی بن گیا۔ انھوں نے نجاشی سے کہا کہ مسلم مہاجرین کو اس وفد کے حوالے کر دینا چاہئے۔ حتیٰ کہ ایک موقع پر انھوں نے در بار میں مسلمانوں کے خلاف با قاعدہ فتنہ ورغل۔ برپا کر دیا۔ ایسی حالت میں معاملہ اگر اس مذہبی طبقہ کی سطح پر لایا جاتا تو یقیناً اس کا فیصلہ مسلمانوں کے خلاف ہوتا۔ مگر مسلمان وہاں کے مذہبی طبقہ سے مطلق نہیں الجھے۔ انھوں نے مذہبی طبقہ کو نظر انداز کرتے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader