Urdu book · کاروانِ ملّت

غلط رہنمائی

Urdu book, p. 133

By Maulana Wahiduddin Khan

غلط رہنمائی جون ۱۹۸۷ میں میں ایک بیرونی سفر پر تھا۔ اس سفر کی روداد الرسالہ فروری ۱۹۸۸ میں شائع ہو چکی ہے۔ اس سفر کے دوران میری ملاقات ویسٹ انڈیز کے ایک مسلمان سے ہوئی۔ انھوں نے اپنا ایک واقعہ بتایا۔ ان کی ملاقات امریکہ کے ایک تعلیم یافتہ مسیحی سے ہوئی تھی۔ ان کی داڑھی اور ان کی ٹوپی کو دیکھ کر اس نے سمجھا کہ شاید یہ مسلمان ہیں۔ اس کے بعد دونوں کے درمیان جو سوال و جواب ہوا، وہ ان کے الفاظ میں یہ تھا: Are you a Muslim? Yes. Then you are a terrorist. ویسٹ انڈیز کے مذکورہ مسلمان نے یہ بات شکایت کے طور پر بتائی تھی۔ مگر میں اس کو عین واقعہ سمجھتا ہوں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی تصویر یہ ساری دنیا میں دہشت گرد (Terrorist) کی تصویر بن گئی ہے۔ دورِ اول کے مسلمانوں کی تصویر یہ تھی کہ وہ دین رحمت کے نمائندہ ہیں۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی تصویر یہ ساری دنیا میں یہ ہے کہ وہ دین دہشت کے نمائندہ ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال ساری دنیا میں یہ ہے کہ وہ یا تو لڑ رہے ہیں یا لڑنے کی باتیں کر رہے ہیں۔ کوئی عملی جنگ میں مشغول ہے اور کوئی قولی جنگ میں ۔ یہ بات اتنی عام ہے کہ مشکل ہی سے کچھ لوگوں کو اس سے مستثنیٰ کیا جا سکتا ہے۔ یہ عملی یا قولی جنگ تین صورتوں میں جاری ہے۔ ایک وہ جنگ جس میں مسلمان اپنی مدعو قوموں سے سیاسی حقوق کی جنگ کرنے میں مشغول ہیں، مثلاً فلپائن۔ دوسری وہ جنگ جس میں مسلمان اپنے ملک کے مسلم حکمرانوں سے اسلامی قانون کے نفاذ کے نام پر لڑ رہے ہیں۔ مثلاً مصر ۔ تیسری وہ جنگ جس میں مسلمان باہمی شکایت کی بنیاد پر خود آپس میں لڑ رہے ہیں، مثلاً پاکستان میں مہاجروں اور غیر مہاجروں کی لڑائی۔ مسلمانوں کا ایک طبقہ براہ راست طور پر ان لڑائیوں میں مشغول ہے۔ دوسرا طبقہ، جس کو دانشور طبقہ کہا جا سکتا ہے۔ وہ تقریر یا تحریر کی صورت میں اس جنگ کی موافقت کر کے لڑنے والوں کی بہت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page