Urdu book · کاروانِ ملّت

صبر کا ہتھیار

Urdu book, p. 149

By Maulana Wahiduddin Khan

صبر کا ہتھیار ۷ ستمبر ۱۹۸۰ کا واقعہ ہے۔ مسز کلیش (۲۲ سال) شاہدرہ کی ایک سڑک پر چل رہی تھیں۔ ان کے گلے میں سونے کی زنجیر تھی۔ اچانک اشوک نامی ایک شخص جس کی عمر ۲۵ سال تھی جھپٹا اور مسز کلیش کی زنجیر کھینچ کر بھاگا۔ پولیس کانسٹیبل کشن چند تیگی (۲۴ سال) اس وقت ڈیوٹی پر گھوم رہے تھے۔ کسی نے ان کو واقعہ کے بارہ میں بتایا۔ وہ تلاش کرتے ہوئے ایک بالیکی مندر میں پہنچے جہاں مجرم موجود تھا۔ پولیس کی وردی دیکھتے ہی وہ اٹھ کھڑا ہوا کشن چند نے اس کا پیچھا کیا۔ مجرم کے پاس ایک ریوالور تھا۔ اس نے فائر کیا تو اس کی گولی کشن چند کی آنکھ کے نیچے ان کے چہرہ اور گردن کو زخمی کرتی ہوئی گزر گئی۔ انھوں نے چلا کر کہا " ایک بار تونے مجھے مار دیا۔ پر دوبارہ تو نہیں مار سکتا۔ مجھے معلوم نہیں تھا تیرے پاس ریوالور ہے" اب وہ چوکنّا ہوگئے۔ مجرم نے دو بار اور گولی چلائی۔ مگر ہر بار وہ نہایت پھرتی کے ساتھ بیٹھ گئے اور اس کے وار کو خالی کر دیا۔ کشن چند کسی خوف کے بغیر تنہا مجرم کا پیچھا کرتے رہے جب کہ "دشمن" کے پاس ریوالور تھا اور ان کے اپنے پاس لاٹھی بھی نہیں تھی۔ دوڑتے دوڑتے آخر کار ساڑھے چار فٹ کی ایک چہار دیواری سامنے آگئی۔ مجرم اس پر کود گیا۔ کشن چند نے بھی فوراً چھلانگ لگائی اور دوسری طرف جا کر اس کو پکڑ لیا۔ " ایک مسلح مجرم کو دوڑاتے ہوئے آپ کو ڈر نہیں لگا" ایک اخبار نویس نے کشن چند سے پوچھا "نہیں" انھوں نے جواب دیا۔ " میں جانتا تھا کہ جب اس کا ریوالور خالی ہو چکا ہوگا تو میں اس کو پکڑ لوں گا۔ مجرم کے پاس تین گولی تھی۔ کشن چند نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ اس کی تینوں گولیاں خالی کرا دیں ۔ اب مجرم کا ہتھیار ناقابل استعمال ہو چکا تھا۔ کشن چند نے اس کو پکڑ لیا (ہندوستان ٹائمرے ستمبر ۱۹۸۰) اس چھوٹے سے واقعہ میں بہت بڑا سبق ہے۔ اکثر حالات میں حریف سے مقابلہ کا بہترین طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ابتدائی مرحلہ میں اس کے وار کو خالی کر دیا جائے، یہاں تک کہ اس کے ہتھیار کی "تین گولی" ختم ہو جائے۔ پھر اس سے مقابلہ کرنا نہایت آسان ہو گا۔ مثلاً ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page