صبر کا ہتھیار
Urdu book, p. 155
By Maulana Wahiduddin Khan
داخل ہونا ہے۔ جس کو سورہ نصر میں فتح سے تعبیر کیا گیا ہے۔ موجودہ دور نزاع میں جو سخت حالات پیش آرہے ہیں ، وہ آنے والے یسر کی تمہید ہیں۔ اس طرح وہ تمام ضروری اسباب جمع کئے جارہے ہیں کہ آئندہ جب مرحلہ استحکام آئے تو وہ حقیقی معنوں میں استحکام اور شبات بن سکے۔ اس عمل کے دوران دعوت کے تمام پہلو پوری طرح واضح ہو جائیں۔ سچے انسان اور جھوٹے انسان ایک دوسرے سے الگ کر دئے جائیں۔ یہ معلوم ہو جائے کہ کون واقعی معنوں میں حق کا طالب ہے اور وہ کون لوگ ہیں جو حق کا نام صرف اس لئے لیتے ہیں کہ اس کی آڑ میں اپنا ذاتی مفاد حاصل کر سکیں ۔ گم نامی میں پڑے ہوئے جواہر نکھر اٹھیں اور مصنوعی شہرت کا لبادہ اوڑھنے والے لوگ بے نقاب ہو جائیں۔ نیز یہ کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کی فکر کو ماحول میں غلبہ حاصل ہو تو اس طرح ہو کہ وہ ان کا ایک ثابت شدہ حق بن چکا ہو ، اور اسی طرح جب آپ کے مخالفین کو مغلوب کیا جائے تو یہ مغلوبیت اس طرح آئے کہ وہ لوگوں کو ایک کھلی ہوئی تاریخی ضرورت دکھائی دینے لگے۔ عصر میں یسر کا یہ تجربہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوا، یہی آئندہ بھی آپ کے امتیوں کو ہونا رہے گا ، بشرطیکہ وہ اسی صراط مستقیم پر چلیں جس پر آپ چکے اور اسی صبر اور استقامت کا ثبوت دے سکیں جس کا ثبوت آپ نے اپنے زمانہ میں دیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader