Urdu book · کاروانِ ملّت

فرقہ وارانہ مسئلہ

Urdu book, p. 156

By Maulana Wahiduddin Khan

فرقہ وارانہ مسئلہ الرسالہ مارچ ۱۹۸۹ کے سرورق پر لکھا گیا تھا __ ہر قسم کے فساد کے خلاف سب سے بڑا روک صرف ایک ہے : اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہونا۔ اس میں شک نہیں کہ یہی فسادات کو روکنے کا واحد کارگر اصول ہے۔ اس کے سوا جو باتیں کہی جاتی ہیں وہ سب کی سب صرف جھگڑے کو بڑھانے والی ہیں نہ کہ اس کو ختم کرنے والی۔ مزید یہ کہ اس اصول کا تعلق صرف ہندوستان سے نہیں، بلکہ تمام دنیا سے ہے۔ خواہ مسلم ملک ہو یا غیر مسلم ملک ، ایک قوم کا معاملہ ہو یا کئی قوموں کا معاملہ ، ہر جگہ فساد سے بچنے اور پر امن زندگی گزارنے کا یہی بے خطا اصول ہے۔ مسلمانوں کو جہاں کہیں بھی پرامن زندگی حاصل ہے، وہ اسی لیے حاصل ہے کہ وہاں انھوں نے یہ قیمت ادا کردی ہے۔ اور جہاں کہیں انہیں پرامن زندگی حاصل نہیں، وہ اسی لیے حاصل نہیں کہ وہاں وہ یہ ضروری قیمت دینے کے لیے تیار نہ ہو سکے ۔ مسلمانوں کے لیڈر اور دانشور اب تک جس روش پر قائم رہے ہیں ، اس کو ، ایک لفظ میں، دل کی بھڑاس نکالا کہا جاسکता ہے۔ مگر الفاظ بول کر دل کی بھڑاس نکالنا کسی مسئلہ کا حل نہیں۔ ضرورت ہے کہ اب اس معاملے میں اپنی کوششوں کو نتیجہ خیز (Result-oriented) بنایا جائے ۔ مسئلے کا حل تلاش کرنے پر ساری توجہ صرف کی جائے نہ کہ مسئلہ کے خلاف لفظی احتجاج کرنے پر۔ ہندوستان کے فسادات ہندوستان میں پچھلی آدھی صدی سے فرقہ وارانہ فسادات ہورہے ہیں۔ ان فسادات کی کہانی ہمیشہ تقریباً ایک ہوتی ہے۔ انتہا پسند ہندوؤں کی طرف سے کوئی اشتعال انگیز کارروائی کی جاتی ہے۔ اس پر مسلمان مشتعل ہوکر جوابی کارروائی کرتے ہیں۔ اب نزاع بڑھتی ہے، یہاں تک کہ باقاعدہ فساد ہو جاتا ہے جو بالآخر مسلمانوں کے سخت جانی و مالی نقصان پر ختم ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر مسلم رہنما اور دانشور ہمیشہ مسلمانوں کے رد عمل کو یہ کہہ کر جائز قرار دیتے ہیں کہ وہ جوابی طور پر پیش آیا۔ اس سلسلہ میں کوٹہ (راجستھان) کے فساد کی مثال لیجئے ۔ ایک مسلم انگریزی ہفت روزہ (۱۴ - ۲۱ اکتوبر ۱۹۸۹) کی اپنی رپورٹ کے مطابق، ۱۴ ستمبر ۱۹۸۹ کو کوٹہ میں ہندوؤں نے انت چتردشی کا جلوس نکالا۔ یہ جلوس مسلم علاقہ سے گزرا۔ وہاں اس نے اشتعال انگیز نعرے لگائے جو مسلمانوں کے جذبات

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page