فرقہ وارانہ مسئلہ
Urdu book, p. 172
By Maulana Wahiduddin Khan
نکلتا تھا تو اب وہ روزانہ اور ہر جگہ نکلنے لگا۔ بڑھتے ہوئے مسائل کی یہ صورتِ حال صحابی کی نصیحت کی تصدیق کرتی ہے ۔ وہ مسلمانوں کی ردِ عمل کی سیاست کو بالکل بے فائدہ ثابت کر رہی ہے۔ اب آخری وقت آگیا ہے کہ مسلمان صحابی کی مذکورہ نصیحت کی اہمیت کو سمجھیں اور ردِ عمل کی روش کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیں۔ دوسری غلطی نہیں فساد کا حل سادہ لفظ میں صرف ایک ہے ـــــ " دوسری غلطی نہ کیجیے " ایک فریق کی طرف سے کی جابے واں پنہاں ہو اسن کی سلامت رہیں آپ کی عادت کے مطابق نہیں رہی کو حرکت میں لائے بغیر ٹالی نہیں بجتی، اسی طرح صرف پہلی غلطی فساد بر پا کرنے کی طاقت نہیں رکھتی۔ مسلمان اگر یہ طے کر لیں کہ وہ فرقہ پرست عناصر کی پہلی غلطی کے باوجود کبھی دوسری غلطی نہ کریں گے تو صرف اس ایک فیصلے سے وہ فساد کے امکان کو ہمیشہ کے لیے ختم کر سکتے ہیں ۔ پہلی غلطی کے بعد دوسری غلطی کرنا فساد کو پھیلنے کا موقع دینا ہے۔ اس کے برعکس جب پہلی غلطی کے بعد دوسری غلطی نہ کی جائے تو فساد اپنے پہلے ہی مرحلہ میں ختم ہو کر رہ جائے گا۔ پہلی غلطی کے بعد دوسری غلطی کرنا گویا آگ پر پٹرول ڈالنا ہے، اور پہلی غلطی کے بعد دوسری غلطی نہ کرنا گویا آگ پر پانی ڈالنا۔ مسلمان ہر سال بے شمار تعداد میں سیرۃ النبیؐ کے جلسے کرتے ہیں ۔ ان جلسوں میں پر فخر طور پر کہا جاتا ہے کہ ”سلام اس پر کہ جس نے گالیاں کھا کر دعائیں دیں، مسلم شعر اور جوش و خروش کے ساتھ اس قسم کی نظمیں پڑھتے ہیں : راہ میں جس نے کانٹے بچھائے گالی دی پتھر برسائے اس پر چھڑک کی پیار کی شبنم صلی اللہ علیہ وسلم اب وقت آ گیا ہے کہ مسلمان اپنے پیغمبر کی جس صفت کو بطور فخر پیش کرتے رہے ہیں، اس کو اپنی زندگیوں میں بطور نمونہ اختیار کر لیں۔ اس کے بعد وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے امتی بھی بن جائیں گے اور اسی کے ساتھ تعصب اور ظلم اور فساد کا مسئلہ بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا جس طرح وہ رسول اور اصحاب رسول کے لیے اسی طریقہ کو اختیار کرنے کی بنا پر ختم ہو گیا تھا۔ داعیانہ اخلاق صبر و اعراض کی اہمیت صرف اس لحاظ سے نہیں ہے کہ وہ فرقہ وارانہ فساد کے مسئلہ کا حل ہے۔ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader