Urdu book · کاروانِ ملّت

فرقہ وارانہ مسئلہ

Urdu book, p. 161

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے کہ فساد ہونے کے مقابلہ میں فساد نہ ہونے کے واقعات کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ مگر اول الذکر واقعات اخباروں میں چھپ کر مشہور ہوجاتے ہیں۔ جب کہ ثانی الذکر واقعات اخباروں میں نہیں چھپتے، اس لیے وہ لوگوں کے علم میں بھی نہیں آتے۔ صحابی کی نصیحت ہندوستان کے فسادات کا بہترین حل وہ ہے جو ایک صحابی نے ہم سو سال پہلے بتا دیا تھا یہ حضرت عمیر بن حبیب بن حمّاشہ ہیں۔ انھوں نے اپنے لڑکے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: من لا يرضى بالقليل مما يأتي به السفيه جو شخص نادان کی طرف سے پیش آنے والی چھوٹی يرضى بالكثير (حياة الصحابة، الجزء الثانی، تکلیف پر راضی نہ ہوگا اس کو نادان کی طرف سے صفحہ ۶۳۷) بڑی تکلیف پر راضی ہونا پڑے گا۔ صحابی کے اس قول میں زندگی کی ایک حقیقت بتائی گئی ہے۔ یہ ڈیڑھ ہزار سال پہلے کے دور میں جتنی با معنی تھی، اتنی ہی بامعنی وہ آج بھی ہے۔ وہ جس طرح مسلم اکثریت کے ملک میں اہمیت رکھتی تھی، اسی طرح وہ غیر مسلم اکثریت کے ملک میں بھی اہمیت رکھتی ہے۔ موجودہ دنیا ایک ایسی دنیا ہے، جہاں بہر حال دوسروں کی طرف سے تکلیف کی باتیں پیش آتی ہیں۔ یہاں عقل مندی اور کامیابی یہ ہے کہ ابتدائی چھوٹی تکلیف کو برداشت کرلیا جائے۔ اگر آپ ایسا کریں تو معاملہ بڑھتا ہے اور زیادہ بڑی تکلیف سے سابقہ پیش آتا ہے۔ بڑی تکلیف سے بچنے کا واحد راز چھوٹی تکلیف کو نظر انداز کرنا ہے۔ یہی کامیاب زندگی کا واحد اصول ہے، خواہ گھر کا معاملہ ہو یا سماج کا معاملہ یا پورے ملک کا معاملہ۔ اس کی ایک مثال جلوس کا مسئلہ ہے۔ ۱۹۴۷ء سے پہلے ہندوؤں کا جلوس با باجا بتا ہو مسجد کے سامنے سے گزرتا تھا اس وقت مسلمانوں نے باجا کو برداشت نہیں کیا اور جلوس کی روٹ بد لنے پر اصرار کیا۔ اس سے مسئلہ تو ختم نہیں ہوا۔ البتہ بعد کو مزید یہ خرابی پیدا ہوئی کہ ہندوؤں کا جلوس اسی کے ساتھ مسلم مخالف نعرے بھی لگانے لگا۔ اس پر مسلمانوں نے دوبارہ روک ٹوک کی۔ اب یہ ہوا کہ جلوس اور نعرہ تو ختم نہیں ہوا۔ البتہ اس میں تیسری چیز کا اضافہ ہوا۔ وہ یہ کہ جلوس باجے اور نعرے کے ساتھ ٹرک میں پتھر بھر کر چلنے لگاتا کہ مسجدوں اور مسلم محلوں پر خشت باری کرتا ہوا گزرے۔ مزید یہ کہ پہلے اگر جلوس سال میں چند بار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page