Urdu book · کاروانِ ملّت

امن اور ترقی کی طرف

Urdu book, p. 166

By Maulana Wahiduddin Khan

کہہ سکتے ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ انھوں نے اب تک اس عملی حل کو اختیار نہیں کیا۔ قدیم مثل ہے کہ تالی ہمیشہ دو ہاتھ سے بجتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر دو ہاتھوں میں سے ایک ہاتھ کو ہٹا لیا جائے تو تالی کا بجنا اپنے آپ بند ہو جائے گا۔ اسی عملی اصول کا تاریخی نام حدیبیہ پرنسپل ہے۔ اس پرنسپل میں معاملہ کا ایک فریق اپنے آپ کو اس پر راضی کرتا ہے کہ وہ غیر مشروط طور پر فریق ثانی کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کرے گا، وہ ایک طرفہ طور پر اپنا "ہاتھ" ٹکراؤ کے مقام سے ہٹا کر تالی بجنے کے عمل کو موقوف کر دے گا، تاکہ وہ معتدل فضا قائم ہو جس میں تعمیر و ترقی کا کام پر امن طور پر انجام دیا جا سکے۔ میں نے امریکی مسلمانوں سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ اس معاملہ میں ڈبل اسٹینڈرڈ نظر آتے ہیں۔ آپ لوگوں کا اپنا حال تو یہ ہے کہ آپ آخری حد تک امریکہ کے نظام سے ایڈجسٹ کر کے یہاں اپنے مستقبل کو بنانے میں مشغول ہیں۔ مگر ہندوستانی مسلمانوں سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ اپنے ملک کے نظام سے لڑ کر وہاں اپنے لئے زندگی کی تعمیر کریں۔ میں نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے کہ اپنے بھائی کے لئے بھی وہی پسند کرو جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے مطابق ، آپ کو ہندوستانی مسلمانوں سے یہ کہنا چاہئے کہ امریکہ میں ہمارے لئے بہت سی ناموافق باتیں تھیں، مگر ہم نے ان سے لڑے بغیر اپنے لئے راستہ نکالا۔ اس کے نتیجہ میں یہاں ہم کو ایک کامیاب زندگی حاصل ہو گئی۔ تم لوگ بھی ہندوستان میں اسی تجربہ کو دہراؤ۔ تم لوگ بھی اسی طرح وہاں کے نظام سے لڑے بغیر حکیمانہ تدبیر سے اپنی زندگی کی تعمیر کرو۔ مگر آپ لوگوں کا حال ، اس کے برعکس یہ ہے کہ آپ اپنے لئے ایڈجسٹمنٹ کا طریقہ پسند کر رہے ہیں اور ہندوستانی مسلمانوں کے لئے ٹکراؤ کا طریقہ۔ انطباق کی دو صورتیں حقیقت یہ ہے کہ زندگی کا راز ایڈجسٹمنٹ میں ہے نہ کہ ٹکراؤ میں۔ اختلافی معاملات ، اکثر حالات میں یک طرفہ (unilateral) طریقہ پر حل ہوتے ہیں نہ کہ دوطرفہ (bilateral) طریقہ پر۔ اس یک طرفہ اصول (unilateralism) کے استعمال کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اکثریتی فریق اپنا "ہاتھ " ہٹانے پر راضی ہو جائے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اقلیتی فریق اس کی ذمہ داری قبول کرے۔ اگر وہ ایسا کرے تو وہ اپنے "ہاتھ " کو سامنے سے ہٹا کر معاملہ کا خاتمہ کر دے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page