امن اور ترقی کی طرف
Urdu book, p. 167
By Maulana Wahiduddin Khan
امریکہ اور جاپان میں جو کچھ میں نے دیکھا، اور دونوں ملکوں کے بارہ میں جو کچھ پڑھا، اس کے مطابق، میری رائے ہے کہ امریکہ کی تاریخ میں اقلیتی فریق کے ایڈجسٹمنٹ کی مثال پائی جاتی ہے۔ اور جاپان اکثریتی فریق کے ایڈجسٹمنٹ کی ایک کامیاب مثال ہے۔ اقلیتی فریق کا ایڈجسٹمنٹ امریکہ کے اقلیتی فریق سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو عام طور پر مہاجر (immigrants) کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ لوگ جو مختلف ملکوں سے امریکہ آئے اور پھر یہاں کے شہری بن کر یہاں رہنے لگے۔ اس سفر کے دوران اس طبقہ کے بہت سے لوگوں سے میری ملاقات ہوئی۔ ان میں مختلف ملکوں کے لوگ بھی تھے اور مختلف مذہبوں کے لوگ بھی۔ ان مہاجرین کے لئے امریکہ میں مختلف مسائل تھے۔ مگر ان مسائل میں انھوں نے یک طرفہ طور پر امریکی نظام سے ہم آہنگی کا طریقہ اختیار کیا۔ مثال کے طور پر ایک ہندوجب ہندوستان میں تھا تو وہ ”بھارت“ کو اپنا دیوتا سمجھتا تھا۔ اس کی تمام وفاداریاں بھارت کی سرزمین سے وابستہ تھیں۔ وہ فخر کے ساتھ وطنی تقدس کا وہ ترانہ گاتا تھاجس کو بندے ماترم کہا جاتا ہے۔ مگر امریکہ میں جب اس نے وہاں کی شہریت لینا چاہا تو اس کو معلوم ہوا کہ اس کا بھارتی عقیدہ امریکی نظریہ سے ٹکرا رہا ہے۔ اس کو امریکی شہریت صرف اس وقت مل سکتی ہے جب کہ وہ بھارت سے اپنی وفاداری کو مکمل طور پر اور مطلق طور پر ختم کر دے۔ وہ اپنی تمام وفاداریاں صرف امریکہ (U.S.A.) کے ساتھ وابستہ کرے ۔ یہاں اس نے امریکی نظام سے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ وہ اپنے اصول کو بدلے۔ اس کے بجائے اس نے خود اپنے عقیدہ پر نظر ثانی کی۔ امریکی دستور کے مطابق اس نے امریکہ کی غیر مشروط وفاداری کا حلف (Oath of Allegiance) لیا اور اس طرح وہ امریکہ کا شہری بن گیا۔ اسی طرح مسلمان کے عقیدہ کے مطابق، ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان سے جنگ کرنا حرام ہے۔ مسلمان کا یہ عقیدہ امریکہ کے قانون شہریت سے ٹکرا تا ہے۔ کیوں کہ امریکہ کے دستور کے مطابق، ہر امریکی شہری پر لازم ہے کہ جب بھی کسی دوسرے ملک سے امریکہ کی جنگ پیش آئے تو کسی تحفظ یا استثناء کے بغیر وہ امریکہ کی طرف سے اس غیر ملک کے خلاف جنگ کرے۔ امریکہ کے زمانہ قیام میں میری ملاقات ایک مسلمان فوجی سے ہوئی۔ اس نے کہا کہ مجھے خلیج عرب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader