Urdu book · کاروانِ ملّت

امن اور ترقی کی طرف

Urdu book, p. 149

By Maulana Wahiduddin Khan

یہاں کے زمانۂ قیام میں امریکی مسلمانوں کی ایک میٹنگ میں شریک ہوا۔ اس میٹنگ کا خاص موضوع وراثت کی تقسیم کے اسی مسئلہ پر غور کرنا تھا۔ وہاں کسی بھی شخص نے یہ تجویز پیش نہیں کی کہ امریکہ کا یہ قانون مداخلت فی الدین ہے۔ اس لئے اس پر مسلمانوں کی طرف سے سخت احتجاجی بیان شائع کیا جائے اور ملک کے تمام حصوں میں اس کے خلاف جلسے اور جلوس کے مظاہرے کئے جائیں، تاکہ حکومت پر دباؤ پڑے اور وہ موجودہ قانون وراثت میں ترمیم پر مجبور ہوجائے۔ میں نے دیکھا کہ ہر آدمی اس قسم کے بیانوں اور مظاہروں کو خارج از بحث قرار دیتے ہوئے صرف یہ بات کر رہا ہے کہ موجودہ قانون کے ہوتے ہوئے ہم اپنے مسئلہ کو کس طرح حل کرسکتے ہیں۔ بیرونی ملکوں میں مقیم حضرات ہر جگہ ایڈجسٹمنٹ کی سیاست چلا رہے ہیں نہ کہ وہ سیاست جس کو ہندوستان کے سطحی لیڈر دباؤ کی سیاست کا نام دئے ہوئے ہیں۔ امریکہ میں مجھے معلوم ہوا کہ وہاں کے ہندوؤں اور مسلمانوں نے اس مسئلہ سے نمٹنے کے لئے جو کچھ کیا وہ صرف یہ تھا کہ انھوں نے امریکہ کے ماہرین قانون سے مل کر ان سے مشورہ طلب کیا کہ امریکی قانون سے ٹکرائے بغیر وہ کس طرح اس کے دائرہ میں اپنا مسئلہ حل کرسکتے ہیں۔ امریکی وکیلوں نے انھیں بتایا کہ امریکہ کے قانونی نظام میں وصیت نامہ (will) کی بے حد اہمیت ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی موت سے پہلے اپنا باقاعدہ وصیت نامہ تحریر کر دے تو امریکہ کے موجودہ قانون کے مطابق، اس کو کسی تبدیلی کے بغیر مکمل طور پر نافذ کیا جائے گا۔ اس لئے آپ لوگ یہ اہتمام کریں کہ ہر آدمی اپنی موت سے پہلے اپنا وصیت نامہ لکھ کر اس کی رجسٹری کرا دے۔ وصیت نامہ میں وہ اپنے مذہب یا اپنے خاندانی رواج کے مطابق اپنی جائداد کے بٹوارہ کی اسکیم درج کر دے۔ اگر اس نے ایسا کیا تو اس کے مرنے کے بعد اس کی اسکیم کو عین اس کی وصیت کے مطابق جاری کیا جائے گا۔ تمام ہندوؤں، تمام مسلمانوں اور تمام دوسرے لوگوں نے امریکی وکیلوں کے اس مشورہ کو بلا بحث مان لیا۔ اس کے مطابق اب وہ امریکہ کے قانونی نظام سے موافقمت کرکے اپنی جائیداد اور اپنے ترکہ کے مسئلہ کو حل کر رہے ہیں۔ امریکہ کے مہاجر حضرات کا جس جس معاملہ میں کبھی امریکہ کے نظام یا وہاں کے قانون سے ٹکراؤ پیش آیا، اس کو انھوں نے اسی طرح ایڈجسٹمنٹ کرکے حل کیا ہے۔ انھوں نے ہمیشہ اس سے، پر ہیز کیا کہ ایسا کوئی مسئلہ ان کے اور امریکیوں کے درمیان ٹکراؤ کا شو بن جائے۔ بیرونی ملکوں کے جو لوگ امریکہ میں جاکر آباد ہوگئے ہیں، ان میں سے کئی لوگوں سے میں نے پوچھا کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page