امن اور ترقی کی طرف
Urdu book, p. 140
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ نے اپنے ملک کو چھوڑ کر کیوں امریکہ کو اپنا وطن بنا لیا۔ ان سب کا متفقہ جواب یہ تھا کہ یہاں ہم کو پرامن زندگی (peaceful life) حاصل ہے۔ مگر ان حضرات کا یہ بیان اس وقت تک نامکمل ہے جب تک اس میں یہ شامل نہ کیا جائے کہ امریکہ کی یہ پرامن زندگی انہیں وہاں کے نظام سے موافقت کرنے کی قیمت پر ملی ہے نہ کہ وہاں کے مروجہ نظام سے ٹکراؤ کرنے کی بنا پر۔ امریکہ کے مہاجر وہاں اقلیتی فریق کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں امریکی نظام کی حیثیت گویا اکثریتی فریق کی ہے۔ مذکورہ مثال بتاتی ہے کہ وہاں کے اقلیتی فریق نے اپنے اکثریتی مد مقابل سے کس طرح ایڈجسٹ کیا۔ انھوں نے اس معاملہ کے نظری یا اصولی پہلوؤں پر کوئی بحث نہیں چھیڑی۔ بلکہ اپنے مسئلہ کے حل کے لئے وہ عملی طریقہ اختیار کر لیا جس کو ہم نے حد پیپر پرنسپل کا نام دیا ہے۔ اکثریتی فریق کا ایڈ جسٹمنٹ اب دوسری نوعیت کی مثال لیجئے ۔ یعنی وہ مثال جب کہ اکثریتی فریق نے حالات کے تقاضے کا احترام کرتے ہوئے اپنے اقلیتی فریق کے ساتھ ایڈ جسٹمنٹ کا طریقہ اختیار کیا۔ اس کی ایک واضح مثال جاپان کی موجودہ تاریخ میں پائی جاتی ہے۔ امریکہ سے جاپان کا سفر بحر الکاہل کے اوپر طے ہوتا ہے۔ یہ تقریباً دس گھنٹے کی طویل پرواز ہے۔ چنانچہ مسافروں کی اکتاہٹ کو دور کرنے کے لئے جہاز میں دوران سفر فلم شو دکھایا جاتا ہے۔ میں جب لاس اینجلس سے جاپان ایئرلائنز کے ذریعہ ٹوکیو جا رہا تھا تو راستہ میں جاپان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اسکرین پر دکھایا گیا۔ ایک منظر میں میں نے دیکھا کہ امریکہ کا قومی جھنڈا جاپان کی سرزمین پر لہرا رہا ہے۔ یہ ایسا ہی تھا جیسے برٹش حکومت کا سرکاری جھنڈا بمبئی کے اوپر لہرا رہا ہو۔ ایسا واقعہ ہندوستان میں یقینی طور پر ناقابل برداشت سمجھا جائے گا۔ مگر جاپانی قوم پچھلے ۴۵ سال سے اس کو برداشت کر رہی ہے ۔ اور اس " برداشت " نے جاپان کو زبردست فائدہ پہنچایا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے ، دوسری عالمی جنگ کے بعد ۱۹۴۵ میں امریکی فوجیں جاپان کی سرزمین پر اتر گئیں۔ انھوں نے سیاسی اور فوجی اعتبار سے جاپان کے اوپر اپنی بالا دستی قائم کر دی۔ اس کے بعد امریکی جنرل میکارتھر نے جاپان کا نیا دستور تیار کیا، اس میں یہ لکھ دیا گیا کہ جاپان کبھی بھی فوجی طاقت بننے کی کوشش نہیں کرے گا۔ جاپان کے تعلیمی نظام کو مکمل طور پر امریکہ کے تعلیمی نمونہ پر ڈھال دیا گیا۔ جاپان کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader