Urdu book · کاروانِ ملّت

امن اور ترقی کی طرف

Urdu book, p. 173

By Maulana Wahiduddin Khan

جاپان نے اپنے اقلیتی فریق کے ساتھ موافقت کرکے عالمی سطح پر اپنے لئے نمایاں مقام حاصل کر لیا، اسی مدت میں ہندستان کے دونوں فرقوں میں صرف دنگے اور فساد جاری رہے اور آج تک جاری ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ نہ ہندو فرقہ کوئی حقیقی ترقی کا درجہ حاصل کر سکا اور نہ مسلم فرقہ۔ دونوں کے دونوں بربادی کے گڑھ کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں۔ امریکہ کے زمانہ قیام میں میں روزانہ وہاں کے اخبارات پڑھتا تھا۔ مگر امریکہ کے اخبارات ہندستان کی خبروں سے خالی تھے۔ اس مدت میں میں ہندستان کے حالات سے اس طرح بے خبر یا گویا کہ ہندستان جیسے کسی ملک کا کرۂ ارض پر کوئی وجود ہی نہیں ۔ ہندستان جغرافی اعتبار سے بہت بڑا ملک ہے۔ اس کے پاس قسم کے بہترین وسائل موجود ہیں۔ اس کو آزادانہ حیثیت میں تقریباً نصف صدی تک عمل کا موقع ملا۔ مگر اس کے باوجود حالت یہ ہے کہ عالمی نقشہ میں ہندستان کو کوئی بھی اہمیت حاصل نہیں۔ اس کا واحد سبب یہ ہے کہ ہندستان میں ان دونوں میں سے کوئی واقعہ پیش نہ آسکا، حتیٰ کہ کسی ملکی لیڈر نے رہنمائی کے درجہ میں کبھی وہ بات نہ کہی جس کی شاندار مثال امریکہ اور جاپان میں موجود تھی۔ ہندستان کو یا ہندوستان کے لیڈروں کو نہ امریکہ میں کوئی نمونہ ملا اور نہ جاپان میں۔ انھیں کرنے کا کام صرف یہ نظر آیا کہ وہ بے فائدہ طور پر آپس میں لڑتے رہیں۔ یہاں تک کہ دنیا کی بین اقوامی برادری میں ایک کچرا ہوا گرد وہ بن کر رہ جائیں۔ مسئلہ کا حل حقیقت یہ ہے کہ ہندستان کے مسئلہ کا حل صرف ایک ہے، اور وہ وہی ہے جس کو ہم نے حد یبیہ پرنسپل کہا ہے۔ یعنی دو فریقوں میں سے کسی ایک فریق کا اس پر راضی ہونا کہ وہ یک طرفہ طور پر تمام جھگڑوں کو ختم کر دے گا۔ اس معاملہ میں ہمارے لئے دو قسم کے نمونے پائے جاتے ہیں۔ ایک وہ جس کی مثال امریکہ میں ملتی ہے۔ اور دوسرا وہ جس کی مثال جاپان پیش کر رہا ہے۔ امریکہ کی مثال میں ہندستان کے اقلیتی فرقہ (مسلمان) کے لئے ایک جدید نمونہ ہے۔ اور جاپان کی مثال ہندستان کے اکثریتی فرقہ (ہندو) کے لئے جدید نمونہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہندستان کے لئے لازم ہے کہ وہ ان دو میں سے کسی ایک نمونہ کو اختیار کرے۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page