Urdu book · کاروانِ ملّت

امن اور ترقی کی طرف

Urdu book, p. 172

By Maulana Wahiduddin Khan

اس ملک کے جھگڑے ابدی طور پر باقی رہیں گے، یہاں تک کہ ہندوستان کمزور ہوتے ہوتے دنیا کے نقشہ میں ایک ناقابلِ لحاظ ملک بن کر رہ جائے گا۔ اکثریتی فریق (ہندو) اگر حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کرے تو اس کو یہ کرنا چاہئے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف اپنی تمام صحیح یا غلط شکایتوں کو یک طرفہ طور پر بھلا دے۔ وہ اینٹی مسلم طرزِ فکر کو چھوڑ کر حقیقی معنوں میں پرو بھارت طرزِ فکر نہ اختیار کرے۔ وہ مسلمانوں کے سلسلہ میں ماضی کی تمام شکایتوں کو فراموشی کے خانہ میں ڈال دے اور اپنی تمام توجہ اور اپنی تمام طاقت ملک کی ترقی کی راہ پر لگادے۔ ہند اگر ایسا کرے تو وہ وہی کرے گا جو جاپان نے اکثریت کے باوجود اپنی اقلیت کے مقابلہ میں کیا۔ اگر ہند و ایسا کرنے پر راضی ہو جائے تو تاریخ اس سے بھی زیادہ بڑے پیمانہ پر اس کے حق میں اپنے آپ کو دہرائے گی جس کی شاندار مثال جاپان کے تجربہ میں نظر آتی ہے۔ دوسری ممکن صورت یہ ہے کہ اس ’’حدیبیہ پرنسپل‘‘ کو یہاں کا اقلیتی فریق (مسلمان) اختیار کرے۔ مسلمانوں کو صحیح یا غلط اپنے اکثریتی فریق سے بہت سی شکایتیں ہیں۔ اگر مسلمان اپنے آپ کو اس تاریخی فیصلہ پر راضی کریں تو انہیں وقتی طور پر یہ کرنا ہوگا کہ وہ ہندو کے مقابلہ میں اپنی ہر شکایت کو، خواہ وہ بظاہر جائز ہو یا ناجائز ، صبر اور اعراض کے خانہ میں ڈال دیں۔ ہندوؤں کی طرف سے اشتعال انگیزی کی جائے تو یک طرفہ طور پر اس کو برداشت کریں۔ ہندو فساد پر آمادہ ہو جائے تب بھی وہ مقابلہ آرائی کا انداز نہ اختیار نہ کریں۔ ہندو انہیں محرومی کا تجربہ کرائے تو اس کو بھی وہ اپنے ذہن سے نکال دیں۔ مسلمان اپنے آپ کور دِ عمل کی نفسیات سے اوپر اٹھائیں ، وہ مکمل طور پر اور ایک طرفہ طور پر مثبت نفسیات میں جینے لگیں۔ موجودہ حالات میں صبر و اعراض کی یہ پالیسی مسلمانوں کے لئے وقفۂ تعمیر حاصل کرنے کی تدبیر ہے۔ مسلمان اپنے مستقبل کی تعمیر کے لئے اس صورتِ حال کو یہ داشت کریں۔ وہ صبر و اعراض کی پالیسی اختیار کر کے صرف یہ کریں کہ ممکن دائرہ میں اپنی تعمیر و ترقی کی جد و جہد جاری کر دیں۔ تمام ناموافق باتوں کے باوجود اس ملک میں ان کے لئے یہ موقع کھلا ہوا ہے کہ جس چیز کو دوسرے لوگ کم محنت کر کے پارہے ہیں ، اس کو وہ زیادہ محنت کر کے اپنے لئے حاصل کر لیں۔ اور مسلمانوں کو اسی امکان کو استعمال کرنا چاہئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page