امت مسلمہ
Urdu book, p. 149
By Maulana Wahiduddin Khan
امت مسلمه امت مسلمہ کی ایک ڈیوٹی ہے جو خدا کی طرف سے مقرر کی گئی ہے۔ دوسری چیز اس کے وہ مسائل ہیں جو دنیا کے حالات کی نسبت سے اس کے لئے پیدا ہوتے ہیں۔ ڈیوٹی کو پورا کرنے کی ذمہ داری امت کی ہے ۔ اور مسائل کو حل کرنے کا کام خدا نے خود اپنے ذمہ لے لیا ہے۔ فرائض اور مسائل کی یہ تقسیم قرآن کی اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوتی ہے : يا ايها الرسول بلغ ما انزل اليك من اے رسول ، جو کچھ تمہارے اوپر تمہارے رب کی ربك وان لم تفعل فما بلغت رسالته طرف سے اترا ہے اس کو پہنچا دو۔ اور اگر تم نے والله يعصمك من الناس (المائدہ، ۶۷) ایسا نہ کیا تو تم نے اللہ کے پیغام کو نہیں پہنچایا ۔ اور اللہ تم کو لوگوں سے بچائے گا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کے براہ راست مخاطب ہیں اور آپ کی امت اس آیت کی بالواسطہ مخاطب ہے۔ اس آیت کے مطابق ، دعوت الی اللہ کی ذمہ داری اہلِ اسلام پر ہے ، اور عصمت من الناس کی ذمہ داری اللہ تعالی پر۔ اللہ تعالی کی یہ مستقل سنت ہے کہ وہ حامل کتاب قوم کی خصوصی نصرت فرماتا ہے۔ یہ نصرت اس وقت تک جاری رہتی ہے جب تک کہ اس قوم کی حامل کتاب ہونے کی حیثیت باقی ہو۔ اسی سنت الہی کے تحت پچھلے زمانوں میں بنی اسرائیل ( یہود ) کی غیر معمولی مدد کی گئی۔ یہود کے دینی بگاڑ کے باوجود ان کے ساتھ اللہ تعالی کا یہ معاملہ مختلف صورتوں میں جاری رہا۔ یہاں تک کہ انہیں حامل کتاب کی حیثیت سے معزول کر دیا گیا۔ اب قیامت تک کے لئے حامل کتاب ہونے کی حیثیت امت مسلمہ کو حاصل ہے۔ اس لئے امت کے بگاڑ کے باوجود اس کی عمومی نصرت کا سلسلہ برابر جاری رہے گا۔ جہاں تک آخرت کا تعلق ہے ، وہاں ہر آدمی اپنے کئے کے مطابق اپنی جزا پائے گا۔ مگر دنیا میں اللہ تعالیٰ اس امت کو ہر حال میں بچاتا رہے گا۔ مسلمانوں کا داخلی زوال یا بیرونی مداخلت ، کوئی بھی چیز اس میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ اس مخصوص خدائی معاملہ کا تعلق امت مسلمہ کی افضلیت سے نہیں ہے ، بلکہ دین کی حفاظت سے ہے۔ چونکہ نبوت ختم ہو چکی ہے ، اس لئے اب اس دین کو آخر وقت تک محفوظ رہنا ہے۔ اور جب دین کو محفوظ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader