امت مسلمہ
Urdu book, p. 180
By Maulana Wahiduddin Khan
رہنا ہے تو اس امت کو بھی لازماً محفوظ رہنا ہے جو موجودہ اسباب کی دنیا میں اس دین کی حامل بنائی گئی ہے۔ جس طرح مکتوبِ قرآن کے لئے کاغذ کی ضرورت ہے، اسی طرح محفوظ دین کے لئے ایک امت درکار ہوتی ہے جو اس کو اٹھائے اور نسل در نسل اس کو لوگوں تک منتقل کرتی رہے۔ موجودہ زمانہ میں امت مسلمہ کے لئے یہ نصرت بہت بڑے پیمانہ پر ظاہر ہو چکی ہے۔ نصرت کا ظہور انیسویں صدی ختم ہوئی تو مسلم دنیا اپنے زوال کے آخری نقطہ پر پہنچ چکی تھی۔ مگر بیسویں صدی آئی تو مسلمانوں کی اپنی کسی کوشش کے بغیر براہِ راست خدائی مداخلت کے تحت دنیا کے حالات وسیع پیمانے پر بدلنا شروع ہو گئے۔ اس تبدیلی کا پہلا مظہر سیاسی اعتبار سے ہوا۔ موجودہ زمانہ کا ایک مسئلہ یہ تھا جس کو نو آبادیات (Colonialism) کہا جاتا ہے۔ یہ مسئلہ ابتداً پندرھویں صدی عیسوی میں شروع ہوا ۔ اسپینی، پرتگالی، ڈچ، فرانسیسی اور برطانوی قوموں نے بڑی بڑی نو آبادیاتی سلطنتیں بنائیں۔ ایشیا اور افریقہ کے تمام مسلم ممالک براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ان کے قبضہ میں چلے گئے۔ مگر زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ نو آبادیاتی طاقتیں مختلف اسباب سے زوال کا شکار ہو گئیں۔ پہلی عالمی جنگ (۱۸۱۴- ۱۹۱۲) میں جزوی طور پر اور دوسری عالمی جنگ (۱۹۴۵- ۱۹۳۹) میں کلی طور پر ان کی طاقت ٹوٹ گئی۔ وہ اس قابل نہ رہیں کہ ایشیا اور افریقہ میں اپنے زیرِ قبضہ ملکوں پر اپنا سیاسی اقتدار باقی رکھ سکیں چنانچہ ایک کے بعد ایک ملک آزاد ہوتے چلے گئے۔ بیسویں صدی کے عمل کے دوران بیشتر نو آبادیاتی علاقے سیاسی آزادی حاصل کر چکے ہیں: In the course of the 20th century, most colonial areas have gained formal political independence. (III/17) اب دنیا بھر میں پچاس سے زیادہ مسلم ملک ہیں جو سیاسی اعتبار سے آزاد ملک کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ امکانی طور پر وہ اس پوزیشن میں ہیں کہ آزادانہ طور پر جو فیصلہ لینا چاہیں لے سکیں۔ سیاسی محکومی کا مسئلہ اب ان کے لئے باقی نہیں رہا۔ ۲۔ دوسرا مسئلہ اقتصادی اعتبار سے تھا۔ موجودہ زمانہ میں اقتصادی قوت زیادہ ٹرانڈسٹری کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader