Urdu book · کاروانِ ملّت

دعوت حق

Urdu book, p. 203

By Maulana Wahiduddin Khan

انصارِ اسلام آج اسلام کو دوبارہ ایک گروہِ انصار کی ضرورت ہے۔ دورِ اول میں "انصار" نے اسلام کے اظہار میں بنیادی کردار ادا کیا تھا ، آج بھی اسلام کا اظہار اسی وقت ممکن ہے جب کہ انصار کا ایک گروہ اس کی حمایت پر کھڑا ہو جائے۔ انصار کون لوگ تھے ۔ یہ وہ نادر انسان تھے جنہوں نے صداقت کو اس کے مجرد روپ میں دیکھا اور اس کے آگے جھک گئے۔ ہجرت سے پہلے مدینہ میں جب اسلام کی دعوت داخل ہوئی تو وہ صرف ایک لفظی صداقت کی حیثیت رکھتی تھی۔ اس وقت اسلام کے پاس در و دیوار کی صورت میں اُس قسم کا کوئی ایک "مرکز" بھی نہ تھا جیسے مرکز آج ساری دنیا میں لاکھوں کی تعداد میں اسلام کے نام پر قائم ہیں۔ اس کے باوجود انہوں نے اسلام کی معنوی عظمت کو پہچانا اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کر دیا۔ اس نادر صفت کا شرعی نام ایمان ہے اور نفسیات کی زبان میں اس کو اعتراف کہا جاتا ہے۔ جن لوگوں کے اندر یہ اعلیٰ صفت ہو ، انہیں سے اعلیٰ کردار کا ظہور ہوتا ہے اور وہی لوگ اس دنیا میں کوئی تاریخ ساز عمل انجام دیتے ہیں۔ آج اسلام کو اسی قسم کے انصار کا ایک گروہ درکار ہے۔ اسلام آج دوبارہ اجنبی ہو گیا ہے۔ اگر چہ اسلام کے نام پر عظمت کے بے شمار مینار کھڑے ہوئے ہیں۔ مگر حقیقی اسلام دوبارہ ظاہری عظمتوں سے خالی ہے۔ اس کو آج اس کی معنوی سطح پر ہی پہچانا جا سکتا ہے۔ یہ ایک انتہائی نازک امتحان ہے جس کو قرآن میں "قبل الفتح ایمان" کہا گیا ہے۔ جو لوگ اس نازک امتحان میں پورے اتریں ، وہ ہی دورِ جدید میں "انصارِ اسلام" کا کردار ادا کریں گے ، وہی دوبارہ اسلام کی وہ تاریخ بنائیں گے جس کا آج زمین و آسمان کو سب سے زیادہ انتظار ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page