Urdu book · کاروانِ ملّت

دعوت حق

Urdu book, p. 203

By Maulana Wahiduddin Khan

وہی تمہارا مالک ہے۔ پس کیسا اچھا مالک ہے اور کیسا اچھا مددگار (انج ۷۷ - ۷۸) قرآن کے ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان امت مجتبیٰ ہیں ۔ ان کا یہ اجتہاد کار تمہادت دیا کارِ دعوت کے لئے ہوا ہے۔ اسی شہادت علی الناس، کے کام میں انھیں حق جہاد ادا کرنا ہے۔ پھر یہ کوئی جنگ و قتال کا کام نہیں، یہ تمام تر روحانیت اور رہبانیت کے زور پر انجام دیا جانے والا کام ہے۔ اور کسی داعی میں یہ اعلیٰ روحانی اوصاف عبادت اور اعتصام باللہ کے ذریعہ حاصل ہوتے ہیں۔ شہادت علی الناس ہی اہل اسلام کی اصل خدائی ڈیوٹی ہے۔ اس کام کی انجام دہی کے اوپر ان کے مستقبل کا انحصار ہے۔ اگر وہ اس کام کو انجام دیں تو یہ کام ان کی فلاح کا ضامن ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اس کے بعد ان کا ناصر اور مولیٰ بن جائے گا۔ اور اگر وہ اس کام کو انجام نہ دیں تو اس کے بعد اندیشہ ہے کہ ان کے ساتھ لا ناصر لهم ولا مولیٰ لہم کا معاملہ کیا جائے۔ "دین میں کوئی تنگی نہیں" سے یہاں مراد عمل شہادت ہے ۔ تمہارے لئے اس کام میں کوئی تنگی نہیں رکھی، اس کا مطلب یہ ہے کہ ظہورِ اسلام کے بعد اللہ تعالیٰ نے عالمی حالات میں ایسی تبدیلیاں پیدا کر دی ہیں کہ اب دعوت کا کام یسر کے حالات میں انجام دیا جائے گا، جب کہ اس سے پہلے وہ "عسر" کے حالات میں انجام دیا جاتا تھا۔ اس "یسر" کے بے شمار پہلو ہیں۔ اس کا ایک پہلو وسائل اعلام سے متعلق ہے۔ جدید وسائل اعلام نے اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ اسلام کی دعوت کو سارے عالم میں پہنچایا جا سکے۔ اس سے پہلے بادشاہ کے سوا کسی کو اظہارِ خیال کی آزادی حاصل نہ ہوتی تھی۔ آج ہر آدمی کو اظہارِ خیال کی مکمل آزادی ہے۔ اس انقلاب نے آج مذہب کی تبلیغ کو ایک ایسا کام بنا دیا ہے جس کو ہر آدمی بہ آسانی انجام دے سکے۔ جدید تحقیقات نے ایک طرف تمام دوسرے مذہبی نظریات کو نا قابلِ اعتبار ثابت کر دیا ، دوسری طرف اسلام ہر اعتبار سے ایک ثابت شدہ دین بن کر ابھرا آيا۔ وغیرہ موجودہ زمانے میں اس طرح کی بے شمار تبدیلیاں ہوئی ہیں جن کو ایک لفظ میں "عمل تیسی" کہا جا سکتا ہے۔ خدا کا کام تییسر ہے اور بندے کا کام تبلیغ۔ خدا نے اپنے حصہ کا " نصف اول" کام پوری طرح انجام دے دیا اب اہل اسلام کو اپنے حصہ کا " نصف ثانی" کام انجام دینا ہے۔ اگر وہ اس کام کی بجا آوری کے لئے اٹھیں تو یقیناً ان کے حق میں قرآن کے یہ الفاظ پورے ہوں گے: ولی نصرن الله من ينصره ان الله قوی عزیز۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page