اسلام کا سیلاب
Urdu book, p. 206
By Maulana Wahiduddin Khan
لاکھوں جانیں اور بے شمار دولت ان ہموم میں قربان کر دی گئی۔ اور جب سب کچھ ہو چکا تو یروشلم بدستور " بد دینوں " کے قبضے میں پڑا ہوا تھا۔ یہ واقعہ جو آٹھ سو سال پہلے عیسائیوں کے ساتھ پیش آیا تھا، ٹھیک یہی واقعہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے ساتھ پیش آیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں دوبارہ مسلمانوں کی ” دو سو سالہ “ قربانیوں کے باوجود ” یروشلم “ انھیں لوگوں کے قبضہ میں ہے جن کو مسلمان سب سے زیادہ غیر مستحق سمجھتے ہیں۔ مسیحی قومیں صلیبی جنگوں میں تو کامیاب نہیں ہوئی تھیں۔ مگر موجودہ زمانہ کی استعماری جنگ میں انھوں نے پوری کامیابی حاصل کی ہے۔ پچھلی صدیوں میں انھوں نے مسلمانوں کی تمام سلطنتوں کو مغلوب کر لیا اور پھر ساری دنیا میں ان کے اوپر براہ راست یا بالواسطہ طور پر سیاسی اور تہذیبی غلبہ قائم کر لیا۔ اس کے جواب میں مسلمانوں نے پورے عالم اسلام میں مغربی قوموں کے خلاف لڑائی چھیڑ دی۔ تاہم دو سو سال د تیرھویں اور چودھویں صدی ہجری کی لڑائیوں اور مقابلوں کے بعد بھی صورت حال یہ ہے کہ مسیحی اقوام کا غلبہ بدستور قائم ہے۔ ” یروشلم “ اب بھی دشمنانِ اسلام کے قبضہ میں ہے۔ بے پناہ کوششوں کے باوجود اس ناکامی کی وجہ دعوت الی اللہ کے کام کو چھوڑنا ہے جو امت مسلمہ کا اصل منصبی فریضہ ہے۔ یہی وہ فریضہ ہے جس کی ادائیگی پر مسلمان نصرتِ خداوندی کے مستحق ہوتے ہیں۔ مسلمان جب تک دعوت الی اللہ کے کام کے لئے نہ کھڑے ہوں گے ان کی تمام کوششیں حبطِ اعمال کا شکار ہوتی رہیں گی۔ ان کا وہی حال ہو گا جو بائبل میں بنی اسرائیل کے لئے بیان کیا گیا تھا : زرعتم كثيراً ودخّلتم قليلا ۔ تاكلون وليس الى الشبع ۔ تشربون ولا تروؤن ۔ تكتسون ولا تدفأون ۔ و الآخذ أجرة يأخذ أجرةً لكيس منقوب (حجی ، الاصحاح الاول) تم اپنی روش پر غور کرو ۔ تم نے بہت سابويا ، پر تھوڑا کاٹا ۔ تم کھاتے ہو ، پر آسودہ نہیں ہوتے ۔ تم پیتے ہو ، پر پیاس نہیں بجھتی ۔ تم کپڑے پہنتے ہو ، پر گرم نہیں ہوتے ۔ اور مزدور اپنی مزدوری سوراخ دار تھیلی میں جمع کرتا ہے ۔ رب الافواج یوں فرماتا ہے کہ تم اپنی روش پر غور کرو (حجی ، باب اول) یہ مسلم رہنماؤں کی کوتاہ نظری تھی کہ وہ کھوئے ہوئے کے غم میں پڑے رہے۔ اور طے ہوئے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader