Urdu book · کاروانِ ملّت

اسلام کا سیلاب

Urdu book, p. 206

By Maulana Wahiduddin Khan

مواقع کو استعمال کرنے کے لیے نہ خود اٹھے اور نہ قوم کو اس کے لیے بیدار کیا۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بار بار ایسی نشانیاں ظاہر ہو رہی تھیں جو یہ بتا رہی تھیں کہ کرنے کا اصل کام کیا ہے۔ امریکہ میں ایک ٹی وی تنظیم ہے جس کا نام اے بی سی ہے۔ وہ ہر روز شام کو ”ورلڈ نیوز نائٹ“ کے عنوان کے تحت اس دن کی اہم عالمی خبریں نشر کرتی ہے۔ ۱۶ فروری ۱۹۸۹ء کو اس نے ٹیلی ویژن دیکھنے والوں کو جو خبریں بتائیں، ان میں سے ایک اہم خبر یہ تھی کہ ریسرچ کرنے والوں کی ایک ٹیم نے رپورٹ دی ہے کہ اسلام دنیا کا سب سے زیادہ تیز رفتار مذہب ہے۔ ان کے جائزہ کے مطابق ۲۰۲۵ء تک دنیا کی آبادی میں ہر چار آدمی میں سے ایک آدمی مسلمان ہو گا۔ پچھلے سال عیسائی تنظیموں کی دور پورٹوں میں بھی یہی بات کہی گئی تھی کہ اسلام کرہ ارض پر سب سے زیادہ تیزی کے ساتھ پھیلنے والا مذہب ہے۔ امریکہ (پلین فیلڈ) سے ایک انگریزی ماہنامہ شائع ہوتا ہے جس کا نام اسلامک ہو رائزن (Islamic Horizons) ہے۔ اس نے اپنے شمارہ مارچ ۔ اپریل ۱۹۸۹ء میں اس رپورٹ کا خلاصہ شائع کیا ہے۔ وہ اس کے الفاظ میں یہ ہے: ABC's “World News Tonight" reported in its February 16, 1989 newscast that a new reliable study showed that Islam is the fastest growing religion in the world. According to researchers, one out of every four people in the world will be Muslim by the year 2025, about one generation from now. At least two reports from Christian organisa- tions last year marked Islam as not only the fastest blooming religion on the planet but in the United States, as well (p.21). نیویارک میں دسمبر ۱۹۸۸ء میں ”مسلم ورلڈ ڈے“ کے نام سے ایک اجتماع ہوا۔ اس اجتماع کی کارروائیاں نیویارک کے پنٹا ہوٹل (Penta Hotel) میں انجام پائیں۔ اس موقع پر امریکہ کی کئی مشہور شخصیتیں بھی شریک ہوئیں ۔ ان میں سے ایک امریکہ کے ممتاز بیرسٹر ولیمہ کنسٹلر (William Kunstler) بھی تھے۔ ولیمہ کنسٹلر کی تقریر نیویارک کے انگریزی ہفت روزہ دی مینارٹ (The Minaret) میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں موصوف نے اسلام کی غیر معمولی خوبیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ کچھ دنوں بعد اسلام دنیا کا سب سے بڑا مذہب ہوگا۔ کل وہ دنیا کی آبادی کا چالیس فی صد حصہ ہو جائے گا اور اگلے پچاس برسوں میں وہ دنیا کی آبادی کا ساٹھ فی صد حصہ ہوگا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page