Urdu book · کاروانِ ملّت

راہ نجات

Urdu book, p. 212

By Maulana Wahiduddin Khan

مقدار میں موجود ہیں۔ آج دنیا میں مسلمانوں کے ۵۶ با اختیار ممالک ہیں۔ مسلمانوں کی تعداد ساری دنیا میں ایک ارب ہے۔ یہ تعداد ماضی کے کسی بھی دور کے مقابلہ میں سب سے زیادہ ہے۔ مسلمانوں کے درمیان آج ہمیشہ سے زیادہ مسجدیں اور مدرسے ہیں۔ ۱۹۲۵ء میں حج کا فریضہ ادا کرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے بھی کم (90,622) تھی ۔ ۱۹۹۰ء میں جن مسلمانوں نے حج ادا کیا، ان کی تعداد پندرہ لاکھ (1,500,000) ہے۔ جب کہ اس سال ایرانی مسلمان حج کے لئے نہیں آئے تھے۔ قرآن اور حدیث اور دوسری اسلامی کتابیں آج اتنی زیادہ مقدار میں ہیں کہ ماضی میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ خدا اور رسول کے نام پر آج جتنے جلسے اور سیمینار اور کانفرنسیں ہو رہی ہیں ان کی تعداد ساری انسانی تاریخ میں ہونے والے تمام جلسوں کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔ آج مسلمان ایسے اسلامی اجتماعات منعقد کر رہے ہیں جن میں ۲۵ لاکھ یا اس سے بھی زیادہ آدمی بیک وقت جمع ہوتے ہیں ، جب کہ رسول اللہ کے آخری اجتماع (حجۃ الوداع) میں جمع ہونے والے مسلمانوں کی کل تعداد بمشکل سوا لاکھ تھی۔ آج اسلامی نظام قائم کرنے کے نام پر اتنے ہنگامے جاری ہیں کہ اگر تمام انبیاء کی مجموعی آوازیں اکٹھا کی جائیں تو ان کی آوازیں اس کے مقابلہ میں دب کر رہ جائیں گی۔ آج مسلمانوں نے اتنے بڑے بڑے اکابر پیدا کر رکھے ہیں جن میں سے کوئی ” عہد آفریں شخصیت کا حامل ہے اور کسی کے متعلق اس کے معتقدین یہ اعلان کر رہے ہیں کہ : ہمارے حضرت والا کے فیض سے یار و تمام عالم اسلام جگمگا رہا ہے یہ تمام چیزیں مسلمانوں کے پاس وافر مقدار میں موجود ہیں۔ اس کے باوجود وہ ساری دنیا میں پست اور حقیر ہو رہے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان سب کے علاوہ کوئی اور چیز ہے جو مسلمانوں کو عزت اور غلبہ کے مقام تک پہنچاتی ہے، اور وہی چیز آج ان کے پاس موجود نہیں۔ اگر آپ اسلام کی مطلوبہ چیزوں کی فہرست بنا کر اس معاملہ پر غور کریں تو آپ اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ موجودہ مسلمانوں کے یہاں اگر چہ تمام چیزیں موجود ہیں، مگر ایک چیز ان کے درمیان سے مکمل طور پر غائب ہے ، اور وہ دعوت ہے۔ بدقسمتی سے جو چیز حذف ہوئی وہی اس معاملہ میں اصل اہمیت رکھتی تھی: ہمیں ورق کہ سیاہ گشتہ مدعا این جا است

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page