راہ نجات
Urdu book, p. 211
By Maulana Wahiduddin Khan
راہ نجات ۷ مارچ ۱۹۹۰ء کو میں دہلی سے ایک بیرونی سفر پر روانہ ہوا۔ اردن ایئر لائنز پر سفر کرتے ہوئے اس کا انفلاٹ میگزین ال اجنحة (مارچ ۱۹۹۰) پڑھنے کو ملا۔ اس کے صفحہ ۵۸ پر ایک عرب خاتون یما نبیل کا مضمون چھپا ہوا تھا۔ مذکورہ عرب خاتون اسپین (غرناطہ) گئیں ۔ وہاں انھوں نے عرب دور کے آثار دیکھے۔ ان پر عظمتِ آثار کو دیکھ کر وہ رو پڑیں۔ یہاں انھوں نے تاریخ النصر العربی کو بھی دیکھا اور تاریخ الذل العربی کو بھی۔ انھوں نے کہا کہ کبھی عرب کی عظمت یہاں تھی، اور یہیں سے پانچ سو سال پہلے عرب کی ذلت شروع ہوئی۔ وہ اپنے دل سے پوچھتی رہیں کہ عرب کی یہ رات کب تک باقی رہے گی دائی متی سیستم رہیٰ (الليل العربی) سفر سے واپس آیا تو ڈاک میں دہلی کا سہ روزہ دعوت (۲۸ مارچ ۱۹۹۰) موجود تھا۔ اس کے پہلے صفحہ کے مضمون کی سرخی ان الفاظ میں چھپی ہوئی تھی: اسلامی دنیا آخر اتنی بے سہارا، بے وقعت اور بے وزن کیوں بن کر رہ گئی ہے۔ اس قسم کے مضامین آج مسلم دنیا کے کسی بھی پرچہ اور کسی بھی میگزین میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ اسی صورت حال سے متاثر ہو کر مشہور عرب ہفتہ وار الدعوۃ نے اپنے شمارہ ۱۲ ذی القعدہ ۱۴۰۵ھ (۲۹ جولائی ۱۹۸۵) میں ایک مضمون شائع کیا تھا۔ اس میں موجودہ حالات کا ذکر تھا۔ اس مضمون کا عنوان ان لفظوں میں قائم کیا گیا تھا : الیس للـدين رب يحيحه (کیا اس دین کا کوئی رب نہیں جو اس کی مدد کرے) یہ ایک حقیقت ہے کہ آج کی دنیا میں مسلمان سب سے زیادہ پست اور حقیر اور مغلوب قوم بن گئے ہیں۔ ان کا یہ حال صرف ان ملکوں میں نہیں ہے جہاں وہ اقلیت کی حیثیت سے آباد ہیں۔ ان کا یہی حال ان ملکوں میں بھی ہو رہا ہے جہاں وہ اکثریت کی حیثیت رکھتے ہیں اور جہاں بنطاہران کی آزاد حکومتیں قائم ہیں۔ یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ ان کی کس کمی کی بنا پر ان کا یہ حال ہو رہا ہے۔ گہرائی کے ساتھ دیکھیے تو آج مسلمانوں کے یہاں کسی چیز کی کمی نہیں۔ بظاہر ان کے پاس دین اور دنیا دونوں ہمیشہ سے زیادہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader