راہ نجات
Urdu book, p. 213
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسری قوموں سے خواہ انہیں کتنی ہی زیادہ ناخوشگواری کا تجربہ ہو ۔ دوسری قوموں کی طرف سے انہیں خواہ کتنا ہی زیادہ مادی نقصان پہنچایا جائے ۔ دوسری قوموں کی جانب سے خواہ انہیں کتنا ہی زیادہ اشتعال انگیزی کا تجربہ ہو، ان سب کے باوجود انہیں دوسری قوموں کا خیر خواہ بنے رہنا ہے۔ انہیں یک طرفہ طور پر تمام ناخوش گوار باتوں کو صبر کے خانہ میں ڈال دینا ہے۔ یک طرفہ صبر دعوت کے عمل کو انجام دینے کی لازمی شرط ہے۔ اس یک طرفہ صبر کے بغیر مسلمانوں کے لئے ممکن نہیں کہ وہ دوسری قوموں پر اپنی دعوتی ذمہ داری کو ادا کر سکیں ۔ اور جب تک مسلمان اپنی دعوتی ذمہ داری کو انجام نہ دیں، ان کے حالات کبھی بدلنے والے نہیں۔ کوئی دوسرا عمل خواہ کتنی ہی زیادہ بڑی مقدار میں کیا جائے، وہ ان کے احوال کو بدلنے کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔ دعوت الی اللہ کی ذمہ داری اتنی سنگین ہے کہ اس میں معمولی کو تاہی بھی اللہ تعالیٰ کے یہاں ناقابل قبول ہے، کجا کہ اس کو مستقل طور پر ترک کر دیا جائے ۔ یہ معاملہ سیدنا یونس علیہ السلام کی مثال سے بخوبی طور پر واضح ہے۔ حضرت یونس قدیم عراق (نینوا) میں دعوت توحید کے لئے بھیجے گئے ۔ انھوں نے اہل نینوا کو دعوت دی۔ مگر ابھی دعوت کا عمل اپنی تکمیل (تمام حجت) تک نہیں پہنچا تھا کہ وہ قوم کو چھوڑ کر باہر چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ کو ان کی یہ روش پسند نہیں آئی۔ ان کو مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا گیا۔ قرآن کا بیان ہے کہ اگر وہ اپنی کو تاہی کا اقرار کر کے دوبارہ اپنی مخاطب قوم کی طرف جانے کے لئے تیار نہ ہوتے تو وہ قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں پڑے رہتے (الصافات ۱۴۳) موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا معاملہ اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ انھوں نے اپنی مدعو اقوام پر دعوت کا عمل سرے سے انجام نہیں دیا۔ بلکہ اپنی نفرت بڑھانے والی سرگرمیوں کے ذریعہ اس کی راہ میں مزید رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔ اس غفلت کے نتیجہ میں وہ خدا کی گرفت میں آ گئے ہیں۔ وہ آج خدا کے عذاب کی زد میں ہیں۔ وہ تمام زیاد تیاں جن کا تجربہ انہیں دوسری قوموں کی طرف سے ہو رہا ہے اور جس کو وہ دوسری قوموں سے منسوب کر کے ان کے خلاف احتجاج یا ٹکراؤ کر رہے ہیں، وہ سب یقینی طور پر خدا کی طرف سے ہیں۔ یہ خدا کی تنبیہہ ہے نہ کہ دوسری قوموں کا ظلم یا سازش۔ معاملہ کی اس نوعیت کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ کیوں کہ ایک معاملہ جو خدا کی طرف سے ہو، اس کو آپ انسان کی طرف سے سمجھ لیں تو آپ اس سے خلاصی کی تدبیر کو بھی صحیح طور پر سمجھ نہیں سکتے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader