Urdu book · کاروانِ ملّت

راہ نجات

Urdu book, p. 215

By Maulana Wahiduddin Khan

حقیقت یہ ہے کہ یہ معاملہ اپنی آخری صورت میں عین وہی ہے جو اپنی ابتدائی صورت میں بلا تشبیہ حضرت یونس علیہ السلام کے ساتھ پیش آیا تھا۔ آج دنیا بھر کے مسلمان ”مسائل کے پیٹ“ میں ہیں۔ ان کو مسائل کی عظیم مچھلی نے نگل رکھا ہے۔ ان کو فالقہ الحوت کا تجربہ کیا جا رہا ہے۔ مسلمان اس پیٹ سے ہرگز نکل نہیں سکتے جب تک وہ دعوت الی اللہ کے معاملہ میں اپنی کوتاہی کی تلافی نہ کریں۔ ان پر لازم ہے کہ وہ اس خدائی کام کے لئے اٹھیں اور اس کو اس کے تمام آداب و شرائط کے ساتھ انجام دیں۔ وہ اس وقت تک چین سے نہ بیٹھیں جب تک اقوام عالم پر خدا کی حجت پوری نہ ہو جائے۔ اگر مسلمانوں نے اپنی اس کوتاہی کی تلافی نہ کی تو وہ قیامت تک مسائل کے بطن (پیٹ) میں پڑے رہیں گے۔ کوئی دوسرا عمل، خواہ وہ بظاہر کتنا ہی اچھا ہو اور کتنی ہی زیادہ بڑی مقدار میں کیا جائے ، انھیں اس گرفتاری سے نجات دینے والا نہیں۔ جب گرفتاری کے اس معاملہ کا سبب دعوتی کوتاہی ہے تو دوسرا عمل کیوں کر انھیں اس گرفتاری سے نکالنے والا بن سکتا ہے۔ دوڑنے والوں کو خدا کی طرف دوڑنا چاہئے۔ اگر وہ انسانوں کی طرف دوڑتے رہے تو وہ انسانوں کو بھی کھودیں گے ، اور خدا کو تو وہ پہلے ہی سے کھوئے ہوئے ہیں۔ اصل قابل لحاظ بات یہ نہیں کہ ہمارے نزدیک کس چیز کی اہمیت ہے۔ اصل قابل لحاظ بات یہ ہے کہ خدا کے نزدیک کس چیز کی اہمیت ہے۔ ہم بطور خود کسی چیز کو اہم سمجھ کر اس کی طرف دوڑنے لگیں تو اس سے ہماری نجات ہونے والی نہیں۔ ہماری نجات کا انحصار اس پر ہے کہ ہم اپنے ذاتی دائرہ سے اوپر اٹھیں اور بے آمیز ذہن کے تحت خدا کی مرضی کو معلوم کریں ۔ اور پھر خدا کی جو مرضی ہے اس پر اپنی تمام کوششوں کو ڈال دیں۔ اُس کے سوا کوئی بھی دوسرا طریقہ ہم کو کامیابی کی طرف نہیں لے جا سکتا۔ خدا کے نزدیک ان قومی مسائل کی کوئی اہمیت نہیں جن کو خود مسلم رہنماؤں نے اپنی نادانی سے پیدا کیا ہے اور اب انھیں کو سب سے اہم بتاکر ان میں الجھے ہوئے ہیں۔ خدا کے نزدیک سب سے زیادہ اہم مسئلہ یہ ہے کہ انسان کو نوعیت حیات سے باخبر کیا جائے۔ زندگی کے بارہ میں خدا کا جو منصوبہ ہے اس سے کوئی شخص غافل نہ رہے۔ تاکہ قیامت میں کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہم تو بے خبر تھے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page