Urdu book · کاروانِ ملّت

اسلامی دعوت بدلتی ہوئی دنیا میں

Urdu book, p. 222

By Maulana Wahiduddin Khan

(الکہف ۲۹) کا موقع باقی رہے۔ ایسی حالت میں دنیا کے اندر جبر کا نظام قائم کرنا براہِ راست مصلحت خداوندی کے خلاف ہے۔ کوئی شخص جب کسی علاقے میں جبر کا نظام قائم کرتا ہے تو گویا وہ خدا کے قائم کئے ہوئے نظام میں مداخلت کرتا ہے۔ خدا ایسے شخص یا گروہ کو کبھی برداشت نہیں کرتا۔ وہ ایسے لوگوں سے طاقت چھین کر انھیں باہر پھینک دیتا ہے۔ کچھ لوگ جہاد (یعنی قتال) کی تشریح اس طرح کرتے ہیں کہ اس کا مقصد موانع دعوت کو ہٹانا ہے۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ جہاد (معنی قتال) صرف دفاع کے لئے ہوتا ہے۔ جہاں تک موانع دعوت کا تعلق ہے وہ خود خدا کی طرف سے ہٹائے جاتے ہیں۔ موانع دعوت خدا کا مسئلہ ہے، وہ ہمارا مسئلہ نہیں۔ ہمارا مسئلہ دعوت پہنچانا ہے، اگر ہم دعوت پہنچانے کا کام کریں تو خدا کی طرف سے یہ وعدہ ہے کہ وہ ضرور موانع دعوت کا خاتمہ کر دے گا۔ بائبل کی پیشین گوئی بائبل میں اسرائیلی پیغمبر کی زبان سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ ۔ وہ کھڑا ہوا اور زمین تھرا گئی۔ اس نے نگاہ کی اور قومیں پراگندہ ہو گئیں۔ ازلی پہاڑ پارہ پارہ ہو گئے۔ قدیم ٹیلے جھک گئے۔ اس کی راہیں ازلی ہیں (حبقوق ۳ : ۶) : وقف و قاس الارض ۔ نظر فرجف الامم ودكت الجبال الدهربة وخسفت آكامِ القِدَم ۔ مسالك الازل له (حبقوق ۳ : ۶) اس پیشین گوئی کا تعلق پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔ اس میں "ازلی پہاڑ" اور "قدیم ٹیلے" سے مراد رومی اور ساسانی سلطنتیں ہیں۔ یہ سلطنتیں جبر پر قائم تھیں۔ انھوں نے قدیم زمانہ میں وہ چیز پیدا کر رکھی تھی جس کو قرآن میں فتنة کہا گیا ہے۔ اور جس کو ہنری پرین (Henri Pirenne) نے شاہانہ مطلقیت (Imperial absolutism) سے تعبیر کیا ہے۔ اس شاہانہ مطلقیت نے قدیم زمانہ میں دعوت حق کے تمام مواقع ختم کر دئے تھے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں اللہ تعالیٰ نے عرب طاقت کے ذریعہ ان شہنشاہیتوں کو توڑ دیا۔ اس کے بعد تاریخ میں پہلی بار آزادانہ غور و فکر کا دور شروع ہوا۔ اس طرح وہ حالات پیدا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page