Urdu book · کاروانِ ملّت

اسلامی دعوت بدلتی ہوئی دنیا میں

Urdu book, p. 222

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام کی دعوت بدلتی ہوئی دنیا میں خدا کے جن قوانین کے تحت موجودہ دنیا چلائی جارہی ہے ، ان میں سے ایک وہ ہے جس کو قرآن میں قانون دفع کہا گیا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے ـــــ اور اگر خدا لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعہ سے دفع نہ کرتا رہے تو خانقاہیں اور گرجا اور عبادت خانے اور مسجدیں جن میں خدا کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے ، ڈھادئے جاتے۔ اور خدا ضرور اس کی مدد کرے گا جو خدا کی مدد کرے۔ بے شک خدا زبر دست ہے ، نرو رو الاہے ( ۴۰/۲۲ ) خدا کے اس قانون کا اظہار انسانی زندگی میں مختلف صورتوں میں ہو تا رہا ہے۔ مثلاً اسلام کے ابتدائی زمانہ میں اس کا ایک نمایاں اظہار اس طرح ہوا کہ وقت کی دو بڑی جب برا نہ سلطنتوں ــــــ رومی شہنشاہیت اور ساسانی شہنشاہیت کو توڑ دیا گیا۔ اس کے بعد اشاعت حق کے جو آزادانہ مواقع کھلے ، اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ اسلام اس وقت کی آباد دنیا کے تقریباً تمام حصوں میں پھیل گیا۔ یورپ میں صنعتی دور آنے کے بعد نو آبادیاتی نظام (Colonialism) دنیا پر چھا گیا۔ اس نے دوبارہ ، اگرچہ نسبتاً کم تر شدت کے ساتھ ، انسانی دنیا میں جبر کی صورت حال پیدا کر دی۔ اللہ تعالیٰ کا قانون حرکت میں آیا ۔ دوسری عالمی جنگ (۴۵-۱۹۳۹) پیش آئی ۔ اس کے نتیجہ میں یورپ کی نو آبادیاتی طاقتیں بے حد کمزور ہوگئیں اور آخر کار اس نظام کا خاتمہ ہوگیا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے قانون دفع کا ایک نمایاں اظہار حالیہ برسوں (۱۹۸۹ء) میں ہوا ہے اس بار اس قانون کا نشانہ کمیونسٹ ایمپائر تھی۔ کمیونسٹ روس میں اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کئے کہ بظاہر ناقابلِ شکست سوویت ایمپائر ٹوٹ گئی۔ اس طرح اشاعتِ حق کی آخری رکاوٹ کو بھی ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا گیا۔ بظاہر اب اس قسم کا نظام جبر دوبارہ دنیا میں آنے والا نہیں۔ مصلحت خداوندی موجودہ دنیا کو اللہ تعالیٰ نے امتحان کی مصلحت کے تحت بنایا ہے۔ امتحان کی مصلحت کا لازمی تقاضا ہے کہ دنیا میں آزادی کا ماحول ہو۔ یہاں ہر آدمی کے لئے فمن شاء فلیؤمن ومن شاء فليكفر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page