اسلامی دعوت بدلتی ہوئی دنیا میں
Urdu book, p. 225
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی طرح ہندوستان کے دوسرے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (۱۳ مئی ۱۹۹۰) نے اپنے پہلے صفحہ پر ایک کارٹون چھاپا تھا۔ اس میں ایک گلوب ہے جس میں دنیا کا نقشہ بنا ہوا ہے۔ اس گلوب کے سامنے روسی لیڈر مسٹر گورباچیف آتشین شیشہ (magnifying glass) لئے ہوئے کھڑے ہیں اور اس کے نقشہ میں اپنا ملک تلاش کر رہے ہیں۔ آخر کار وہ اپنی بیوی سے کہہ اٹھتے ہیں کہ رئیسیہ، وہ یہاں ہے، میں نے اس کو پالیا، سوویت یونین : Raisa, It's here! I found it - the Soviet Union! سوویت یونین میں ہونے والے اس انقلاب کا کریڈٹ ٹائم میگزین نے میخائیل گورباچیف کو دیا ہے۔ اس نے اپنا شمارہ یکم جنوری ۱۹۹۰ استثنائی طور پر گورباچیف نمبر کے طور پر نکالا ہے اور گورباچیف کو دہی کی شخصیت (Man of the Decade) قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ گورباچیف نے دنیا کو بدل دیا : Gorbachev has transformed the world (p. 14). اس میں شک نہیں کہ سوویت یونین میں جو انقلابی واقعہ ہوا، اس کو ظہور میں لانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے گورباچیف کو وسیلہ بنایا ہے۔ اس معاملہ میں زیادہ بڑے پیمانہ ان کا وہی درجہ ہے جو فرانس کے جنرل ڈیگال کا تھا۔ ڈیگال نے حالات کا اعتراف کرتے ہوئے فرانس کے افریقی مقبوضات کو آزاد کر دیا۔ اسی طرح میخائیل گورباچیف نے اندرونی اور بیرونی حالات کا اعتراف کرتے ہوئے سوویت روس میں انقلاب کے بند دروازے کھول دئے۔ اس سلسلہ میں ٹائم کا یہ ریمارک بہت معنی ہے کہ گورباچیف ایک ماہر سیاست داں ہیں۔ وہ بہت سے ملکوں میں الیکشن جیت سکتے ہیں مگر غالباً خود اپنے ملک میں نہیں : A master politician, Gorbachev could win election in many countries, but probably not his own. سوویت روس میں لائے جانے والے اس انقلاب کے بہت سے پہلو ہیں۔ ان میں سے ایک اہم پہلو وہ ہے جو مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔ کمیونسٹ حکومت کے قیام (۱۹۱۷) کے بعد پورے سوویت روس میں مذہب پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اسی طرح اسلام بھی وہاں محبوس ہو کر رہ گیا تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader