Urdu book · کاروانِ ملّت

اسلامی دعوت بدلتی ہوئی دنیا میں

Urdu book, p. 226

By Maulana Wahiduddin Khan

ہزاروں مسجدیں اور مدرسے بند کر دئے گئے۔ اسلامی لٹریچر کی اشاعت پر پابندی لگا دی گئی۔ اسلامی تعلیم یا اسلامی سرگرمیاں جرم قرار پائیں۔ مگر نئے انقلاب نے دوبارہ سوویت روس میں اسلامی سرگرمیوں کے دروازے کھول دئے ہیں۔ اسلام کا دور سوویت روس میں عبادت خانے بند کر دئے گئے تھے۔ مذہب کو خلاف قانون قرار دے دیا گیا تھا۔ حکومت کی طرف سے ایک مستقل محکمہ قائم کیا گیا جس کا مقصد یہ تھا کہ وہ سوویت روس سے مکمل طور پر مذہب کے خاتمہ کی تدبیریں اختیار کرے۔ مگر آج یہ تمام چیزیں عملاً ختم ہو چکی ہیں۔ سوویت روس میں اب ایک ہزار سے زیادہ مسجدیں مسلمانوں کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ اسلامی لٹریچر شائع کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ چنانچہ ۱۹۹۰ء میں وہاں سے ایک اسلامی جریدہ "نور الاسلام" کے نام سے نکالا گیا ہے۔ روسی حکومت کی منظوری کے تحت خود روس کی ہوائی کمپنی ایر وفلاٹ نے قرآن کے ایک ملین نسخے جدہ سے ماسکو پہنچائے ہیں، جب کہ اس سے پہلے قرآن کا ایک نسخہ بھی روس کے اندر لے جانا ممنوع تھا۔ کمیونسٹ انقلاب کے بعد سوویت روس میں حج کا سفر بند کر دیا گیا تھا۔ اب خود سوویت یونین کے صدر میخائیل گور باچیف نے روسی ایئر لائن ایر و فلاٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ روسی حاجیوں کو عرب پہنچانے کا خصوصی انتظام کرے اور اس مقصد کے لئے ماسکو، تاشقند، باکو، تاتار، قازان اور دوسرے بڑے روسی شہروں سے جدہ تک براہ راست پروازیں جاری کرے ۔ اسی کے ساتھ گورباچیف نے روسی وزیر خارجہ سے کہا ہے کہ سوویت روس سے جو مسلمان حج کے لئے جانا چاہیں، ان کے لئے سہولت ویزا جاری کیا جائے۔ سوویت روس میں اسلام کے لئے جو نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں، ان کے سلسلہ میں یہ چند باتیں بطور مثال ہیں نہ کہ بطور حصر۔ انھیں چند مثالوں سے بقیہ باتوں کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ کارل مارکس نے اپنی ایک تحریر میں مذہب کے خلاف نہایت سخت ریمارک دیا تھا۔ اس نے لکھا تھا کہ مذہب عوام کی افیون ہے: Religion is the opium of the people.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page