Urdu book · کاروانِ ملّت

اسلامی دعوت بدلتی ہوئی دنیا میں

Urdu book, p. 230

By Maulana Wahiduddin Khan

ترقی کے لئے ضروری تھا۔" کائنات ویسی کیوں ہے جیسی ہم اسے دیکھتے ہیں" ان کے الفاظ میں ، اس سوال کا جواب بالکل سادہ ہے۔ اگر کائنات کسی اور ڈھنگ کی ہوتی تو ہم یہاں موجود ہی نہ ہوتے : انہوں نے بگ بینک (big bang) نظریہ کا حساب کر کے بتایا ہے کہ اس میں بے شمار ایسے پہلو ہیں جن کے متعلق ماننا پڑتا ہے کہ وہ کسی ناقابل توجیہہ سبب (unexplained reason) کی بناء پر ہوا۔ کیوں کہ معلوم مادی قوانین میں اس کی توجیہہ موجود نہیں۔ مثال کے طور پر انہوں نے بتایا ہے کہ بگ بینک کے بعد کائنات کی جو توسیع شروع ہوئی اور جواب تک مسلسل جاری ہے، اس کی توسیع کی شرح (rate of expansion) انتہائی حد تک حسابی (well-calculated) ہے۔ اس توسیع کی شرح رفتار میں اگر ایک سیکنڈ کے (non calculated) کے مشابہ ہے۔ جزو (fraction) کے بقدر بھی فرق ہوتا تو کائنات اب تک منہدم ہو چکی ہوتی۔ اس قسم کی مختلف تفصیلات دیتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ اس کی وجہ بتانا بے حد مشکل ہے کہ کائنات اس خاص طریقہ سے کیوں شروع ہوئی ، سوا اس کے کہ یہ مانا جائے کہ وہ ایک خدا کا عمل ہے جس نے چاہا کہ وہ ہمارے جیسی مخلوق پیدا کر کے یہاں رکھے۔ کائنات کا سائنٹفک ماڈل تقاضا کرتا ہے کہ اس کائنات کا ایک خدا مانا جائے۔ خدا کو نہ ماننے کی صورت میں یہ ماڈل نا قابل فہم بن کر رہ جاتا ہے۔ سائنس کی تصدیق موجودہ زمانہ عقل (reason) کا زمانہ ہے۔ آج کا انسان ہر چیز کو عقل کے معیار پر پرکھ کر اختیار کرنا چاہتا ہے۔ مگر آج کے انسان نے جب موجودہ مذاہب کو عقل کے معیار پر پرکھا تو اس نے پایا کہ تمام مذاہب کی کتابیں غیر عقلی تعلیمات سے بھری ہوئی ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page