اسلامی دعوت بدلتی ہوئی دنیا میں
Urdu book, p. 231
By Maulana Wahiduddin Khan
مثال کے طور پر بائبل میں زمین پر انسان کے ظہور کی جو تاریخ دی گئی ہے، اس کے لحاظ سے حساب لگایا جائے تو ۱۹۹۱ میں زمین پر انسان کے ظہور کی مدت ۵۲۷۵ سال ہوگی۔ سائنسی نقطہ نظر سے انسانی عمر کا یہ تعینضحکہ خیز ہے۔ مگر اس قسم کی غیر علمی اور غیر تاریخی باتیں تمام مذہبی کتابوں میں پائی جاتی ہیں ۔ اس میں صرف ایک استثناء ہے اور وہ قرآن کا ہے۔ قرآن میں اس قسم کی کوئی مثال مطلق طور پر موجود نہیں۔ اس موضوع پر مختلف کتابیں چھپ چکی ہیں۔ فرانس کے ڈاکٹر موریس بوکائی کی مشہور کتاب (Dr Maurice Bucaille) (The Bible, the Qur'ān and Science) خاص اسی موضوع پر ہے جو پہلی بار فرانسیسی زبان میں ۱۹۷۶ میں شائع ہوئی تھی۔ اور اب تک ۱۰ زبانوں میں اس کے ترجمے کئے جا چکے ہیں۔ اس سلسلہ میں ڈاکٹر بکائی کی دوسری کتاب ۱۹۸۴ میں پیرس سے شائع ہوئی ہے۔ ۲۲۰ صفحہ پر مشتمل اس کتاب کے انگریزی ایڈیشن کا نام یہ ہے : What is the Origin of Man? ڈاکٹر موریس بوکائی نے اس کتاب میں خاص طور پر ان آیات کا مطالعہ کیا ہے جن میں بتایا گیا ہے کہ جسم مادر کے اندر انسان کی ابتدائی تخلیق کس طرح ہوتی ہے۔ مثلاً : اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کیا۔ پھر ہم نے پانی کی ایک بوند کی شکل میں اس کو ایک محفوظ ٹھکانے میں رکھا۔ پھر ہم نے پانی کی بوند کو ایک علقہ کی شکل دی۔ پھر علقہ کو گوشت کا ایک لوتھڑا بنایا۔ پس لوتھڑے کے اندر ہڈیاں پیدا کیں۔ پھر ہم نے ہڈیوں پر گوشت چڑھایا۔ پھر ہم نے اس کو ایک نئی صورت میں بنا کر کھڑا کیا۔ پس بڑا ہی با برکت ہے اللہ ، بہترین پیدا کرنے والا (۱۲/۲۳-۱۴) ڈاکٹر بکائی نے دکھایا ہے کہ پیغمبر اسلام کے الہام کا زمانہ ۶۱۰ سے ۶۳۲ ء تک ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب کہ مشرق و مغرب میں ہر طرف علمی تاریک خیالی (scientific obscurantism) کا ذہن چھایا ہوا تھا۔ چنانچہ اس دور کی تمام کتابوں میں اس زمانہ کے غیر علمی خیالات کا انعکاس پایا جاتا ہے۔ مگر قرآن حیرت انگیز طور پر اس عمومی تاثر سے مستثنیٰ ہے۔ قرآن میں اپنے زمانہ کی کوئی ایک بھی علمی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader