اسلامی دعوت بدلتی ہوئی دنیا میں
Urdu book, p. 225
By Maulana Wahiduddin Khan
تعمیر خویش جاپان کے موجودہ بادشاہ آکی ہیتو (Akihito) ۱۲ نومبر ۱۹۹۰ء کو باقاعدہ طور پر تخت پر بیٹھے۔ اس سلسلہ میں جو خبریں چھپی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے جو ٹائمز آف انڈیا ۱۳ نومبر ۱۹۹۰ء سے لے کر یہاں نقل کی جارہی ہے: In 1953 Akihito faced embarrassment when he was asked to represent his father, at the coronation of the British Queen Elizabeth and the London newspaper Daily Express polled British opinion on: should the Japanese crown prince attend the coronation? 67 per cent of those responded had said "no". Twenty-six years later when asked to comment on this experience, Akihito told Japanese journalists: "I strongly felt then how necessary it was for people of a country to live in plenty." Today Prince Charles, the eldest son of Queen Elizabeth and the heir to the British throne, attends Akihito's enthronement when Japan far surpasses Britain in wealth and is riding high the acme of its still growing economic power. (The Times of India, November 13, 1990) ۱۹۵۳ء میں آکی ہیتو کو پریشانی لاحق ہوئی تھی جب کہ ان سے کہا گیا کہ وہ لندن میں منعقد ہونے والی برطانی ملکہ الزبتھ کی تاج پوشی کی تقریب میں اپنے والد کی نمائندگی کریں۔ اس وقت برطانیہ کے اخبار ڈیلی ایکسپریس نے برطانی عوام کی رائے معلوم کی۔ اس نے لوگوں سے پوچھا کہ کیا جاپانی ولی عہد کو تاج پوشی کی تقریب میں شرکت کرنا چاہئے ۔ ۶۷ فی صد انگریزوں نے جواب دیا کہ نہیں“ اس واقعہ کے ۲۶ سال بعد جب آکی ہیتو سے اس تجربہ پر تبصرہ کرنے کے لئے کہا گیا تو انھوں نے جاپانی صحافیوں کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت میں نے نہایت شدت کے ساتھ محسوس کیا کہ کسی ملک کے عوام کے لئے یہ کتنا ضروری ہے کہ ان کو خوش حالی اور فراوانی حاصل ہو۔ اب شہزادہ چارلس، ملکہ الزبتھ کے بڑے لڑکے اور برطانی تخت کے وارث، آکی ہیتو کی تخت نشینی کی تقریب میں اس وقت شریک ہورہے ہیں جب کہ جاپان دولت میں برطانیہ سے بہت زیادہ بڑھ چکا ہے اور اپنی بڑھتی ہوئی اقتصادی طاقت کے عروج پر پہنچ چکا ہے۔ ۱۹۵۳ء میں جاپان کی تصویر یہ تھی کہ وہ ایک کمزور اور شکست خوردہ ملک ہے۔ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader