اسلامی دعوت بدلتی ہوئی دنیا میں
Urdu book, p. 239
By Maulana Wahiduddin Khan
کا اقتصادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے۔ چنانچہ انگریزوں نے اور اسی طرح دنیا کی دوسری قوموں نے، اس کے ساتھ ایسا معاملہ کیا جو واضح طور پر تحقیر اور تذلیل کی حیثیت رکھتا تھا۔ اب جاپانیوں کے لئے ایک صورت یہ تھی کہ وہ رد عمل کا انداز اختیار کریں۔ وہ دوسری قوموں کے خلاف شکایت اور احتجاج کا لفظی طوفان برپا کریں۔ مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ اس کے برعکس جاپانیوں نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ اس قسم کی تمام اشتعال انگیز باتوں کو انہوں نے اعراض کے خانہ میں ڈال دیا۔ انہوں نے اپنی تمام طاقت اور اپنے تمام وسائل کو صرف ایک کام میں لگا دیا۔ اور وہ وہی تھا جس کو جاپان کے سابق شہنشاہ، ہیرو ہیٹو نے جاپان کی تعمیر سے تعبیر کیا تھا۔ اس کا نتیجہ حیرت ناک حد تک شاندار نکلا۔ آج جاپان دنیا کی نمبر ایک طاقت بننے کے کنارے پر پہنچ چکا ہے۔ وہ ساری دنیا کو قرض دے رہا ہے۔ اس کی اسی ترقی کا نتیجہ ہے کہ ۱۲ نومبر ۱۹۹۰ء کو جب آکی ہیرو کی تخت نشینی کی رسم ٹوکیو میں ادا کی گئی تو برطانیہ سمیت دنیا کی ۴۴ قوموں کے نمائندے اس میں شرکت کے لئے موجود تھے۔ حکومت جاپان نے اس تقریب پر ۹۵ ملین ڈالر خرچ کیا۔ اس دنیا میں ترقی کار از یہ ہے کہ آدمی دوسروں کی ناخوش گوار باتوں پر صبر کرے۔ وہ یکسو ہو کر صرف اپنی تعمیر میں لگارہے۔ اگر آپ اپنے کو دوسروں سے اوپر اٹھائیں تو دوسروں کی زیاد تیاں اپنے آپ ختم ہو جائیں گی۔ آپ کسی مطالبہ کے بغیر دوسروں کے درمیان عزت اور سرفرازی کا مقام حاصل کر لیں گے۔ اصل عمل وہ ہے جو اپنے آپ پر کیا جائے۔ مگر نادان لوگ اکثر ایسا کرتے ہیں کہ وہ اپنے مسئلہ کے حل کے لئے دوسروں کے اوپر جد وجہد کرتے ہیں۔ دوسرا انسان ہمیشہ آپ کے قابو سے باہر ہوتا ہے۔ مگر اپنی ذات کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اپنی ذات پر عمل کرنے کی قدرت آپ کو ہمیشہ حاصل رہتی ہے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دوسرا اگر آپ سے چھینتا ہے تو خواہ وہ کتنا ہی زیادہ آپ سے چھین لے ، پھر بھی ایک سب سے قیمتی چیز آپ کے پاس باقی رہے گی ۔ اور وہ خود آپ کا اپنا وجود ہے۔ اس بچے ہوئے سرمایہ کو استعمال کیجئے،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader