Urdu book · کاروانِ ملّت

خیر امت

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

کر دئے ہوں ۔ اس کے بغیر اس کام کی انجام دہی ممکن نہیں۔ خارجی اعلانِ حق اور داخلی امر وہی ، یہ دونوں نازک ترین ذمہ داری کے کام ہیں۔ ان کو صحیح طور پر انجام دینے کے لئے اللہ کا وہ خوف درکار ہے جس نے آدمی کی شخصیت کو پوری طرح بدل ڈالا ہو۔ اس کے لئے ضرورت ہے کہ آدمی دوسروں کا خیر خواہ بنے۔ وہ احساس ذمہ داری کے تحت یہ کام انجام دے نہ کہ اظہارِ برتری کے لئے۔ وہ لوگوں کی زیادتیوں کو یک طرفہ طور پر برداشت کرے۔ وہ لوگوں کی طرف سے کسی قسم کے بدلے کا امیدوار نہ ہو۔ اس کا کلام دل سوزی کا کلام ہو۔ وہ اتنا زیادہ لوگوں کی ہدایت کا حریص ہو کہ اس کے دل سے ان کے لئے دعائیں نکلنے لگیں۔ ایمان باللہ کے بغیر آدمی کی زندگی غیر فطری زندگی ہوتی ہے، ایمان باللہ کے بعد وہ اپنی اصل فطرت پر آجاتا ہے۔ اب وہ مصنوعی انسان کے بجائے حقیقی انسان بن جاتا ہے۔ وہ اپنی ذات کے محور پر چلنے کے بجائے اللہ عز وجل کے محور پر چلنے لگتا ہے۔ وہ خود ساختہ شریعت کو چھوڑ کر اللہ کی مقرر کی ہوئی شریعت پر قائم ہو جاتا ہے۔ اس طرح جو انسان بنتے ہیں، انھیں کے مجموعہ کا نام خیر امت ہے۔ انھیں انسانوں سے وہ کردار ظاہر ہوتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول کو مطلوب ہے اور جس کا مذکورہ آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page