Urdu book · کاروانِ ملّت

خیر امت

Urdu book, p. 41

By Maulana Wahiduddin Khan

اعلم۔ قال شهادة ان لا اله الا الله کہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ وان محمد اُر رسول الله و اقام الصلاة نے فرمایا کہ اس بات کی گواہی دین کہ اللہ کے سوا وايتاء الزكاة وصيام رمضان وان کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں تعتوا من المغنم الخمس اور نماز قائم کرنا اور زکوۃ ادا کرنا اور رمضان ( التفسیر المظہری ۲ / ۱۲۰ ) کے روزے رکھنا اور یہ کہ تم غنیمت میں سے پانچواں حصہ ادا کرو۔ اس حدیث میں اللہ کی وحدانیت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اقرار ایمان کا براہ راست پہلو ہے اور دوسری چیزیں ایمان کا بالواسطہ پہلو ہیں۔ وہ ایمان کے نتیجے اور تقاضے کے تحت آدمی کے اندر پیدا ہوتی ہیں۔ تاہم یہ بالواسطہ تقاضوں کی مکمل فہرست نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام دینی احکام ایمان باللہ کے تقاضے میں شامل ہیں ۔ جس طرح درخت کا ہر جز، اس کے بیج کا ظہور ہوتا ہے۔ اسی طرح کوئی آدمی جب صحیح معنوں میں ایمان کی حقیقت کو اپناتا ہے تو اس کی زندگی کے تمام اعمال میں اس کا اثر ظاہر ہوتا ہے۔ اس کی پوری زندگی اللہ کے رنگ میں رنگ جاتی ہے اللہ سب کچھ ہے، وہی اصل حقیقت ہے۔ اللہ کے حکم سے تمام چیزیں ظہور میں آتی ہیں اور پھر اسی کی طرف تمام چیزیں لوٹتی ہیں۔ اللہ تمام کائنات کا رب ہے ۔ وہی ہر چیز کا مطلوب و مقصود ہے۔ اللہ پر ایمان دین کی اصل اساس ہے۔ ایک شخص کو جب اللہ کی معرفت حاصل ہوتی ہے تو اس کی پوری شخصیت سب سے بڑے نور سے چک اٹھتی ہے۔ اس کے نتیجہ میں اس کے اندر وہ تمام اوصاف پیدا ہو جاتے ہیں جو خیر امت سے وابستہ ایک فرد کے اندر مطلوب ہیں۔ مثلاً تواضع ، احساس ذمہ داری، بندوں کی خیر خواہی، انصاف پسندی ، اپنے اور غیر کو ایک نظر سے دیکھنا، سچائی کا اعتراف کرنا وغیرہ۔ انھیں اوصاف سے متصف انسان کا نام مومن ہے۔ اور جو شخص ان ربانی اوصاف سے متصف ہو وہی خیر امت کا رکن بن سکتا ہے۔ شہادت علی الناس (عمومی دعوت) اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (داخلی اصلاح) یہ دونوں کام وہی لوگ مطلوب معیار پر انجام دے سکتے ہیں جن کی معرفت خدا وندی نے ان کے اندر یہ اوصاف پیدا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page