اسلامی جہاد
Urdu book, p. 44
By Maulana Wahiduddin Khan
جہاد عمومی معنی میں ہر وقت جاری رہنے والا عمل ہے اور قتال کے معنی میں وقتی طور پر پیش آنے والا عمل۔ یہاں قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کا ایک مطالعہ پیش کیا جاتا ہے۔ جہاد قتال کے ہم معنی نہیں ہے ، بلکہ وہ کامل جدوجہد کے ہم معنی ہے۔ اس اعتبار سے جہاد کا تعلق زندگی کے ہر معاملہ سے ہے۔ مشہور تابعی الحسن البصری نے کہا ہے کہ آدمی جہاد کرتا ہے اور وہ ساری عمر میں ایک دن بھی کسی کو تلوار نہیں مارتا (ان الرجل ليجاهد وما ضرب يوما من الدهر بسيف ، تفسیر ابن کثیر ۴۰۴/۳) جہاد کے لفظی معنی کوشش کے ہیں۔ البتہ اس کے مفہوم میں مبالغہ ہے۔ یعنی اس کا مطلب ہے بہت زیادہ کوشش کرنا (جهد الرجل في كذا اى جد وبالغ ، لسان العرب)، اس اعتبار سے جہاد وہی چیز ہے جس کو اردو میں جدوجہد اور انگریزی میں "اسٹرگل" کہا جاتا ہے۔ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس لئے یہاں جب ایک شخص ایمان قبول کرتا ہے تو یہ اس کے لئے کوئی سادہ بات نہیں ہوتی۔ یہ دراصل غیر مومنانہ حالات میں مومنانہ زندگی گزارنے کا فیصلہ ہوتا ہے۔ اس طرح اس کی پوری زندگی جدوجہد کی زندگی بن جاتی ہے۔ سوچ اور عمل ہر اعتبار سے اس کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ اپنے آپ کو غیر خدائی طریقہ سے ہٹائے، اور جو خدائی طریقہ ہے اس کو پوری طرح اپنی زندگی میں اختیار کرے قرآن کی سورہ العنکبوت میں عمل اسلام کو عمل جہاد کہا گیا ہے۔ حالاں کہ العنکبوت ایک مکی سورہ ہے۔ اور مکی دور میں ابھی قتال کا حکم آیا ہی نہیں تھا۔ ارشاد ہوا ہے : کیا لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ محض یہ کہنے پر چھوڑ دئے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کو جانچا نہ جائے گا۔ اور ہم نے ان لوگوں کو جانچا ہے جو ان سے پہلے تھے۔ پس اللہ ان لوگوں کو جان کر رہے گا جو سچے ہیں اور وہ جھوٹوں کو بھی ضرور معلوم کرے گا۔ کیا جو لوگ برائیاں کر رہے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہم سے بچ جائیں گے۔ بہت برا فیصلہ ہے جو وہ کر رہے ہیں۔ جو شخص اللہ سے ملنے کی امید رکھتا ہے تو اللہ کا وعدہ ضرور آنے والا ہے ، اور وہ سننے والا ، جاننے والا ہے۔ اور جو شخص جہاد کرے تو وہ اپنے ہی لئے جہاد کرتا ہے۔ بے شک اللہ دنیا والوں سے بے نیاز ہے (العنکبوت ۱- ۶) یہاں " جہاد" سے مراد یقینی طور پر قتال نہیں ہے۔ یہاں جہاد سے مراد وہ غیر معمولی محنت ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader