اسلامی جہاد
Urdu book, p. 59
By Maulana Wahiduddin Khan
پناہ مانگتا ہوں میں اللہ کی شیطان مردود سے، شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے ایسے بنا دیا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مقصد کی جدوجہد (یا جہاد) کا طریقہ یہ بتایا تھا کہ اس کو مبنی بر دعوت (daw'ah-based) ہونا چاہئے۔ اس کے بعد مارکس جیسے مفکرین اٹھے۔ انھوں نے پر امن طریقہ عمل کو بے کار بتایا اور مقصد کے حصول کے لئے مبنی بر تشدد (violence-based) طریقہ کی پر زور وکالت کی۔ بیسویں صدی کے نصف اول میں مارکسی نظریہ کا اتنا غلبہ ہوا کہ بعض مسلم مفکرین نے اس سے متاثر ہو کر اسلامی جہاد کی متشددانہ تعبیر شروع کر دی۔ مگر موجودہ صدی کے خاتمہ پر جو حقائق سامنے آئے ہیں، انھوں نے حیرت انگیز طور پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی کی تصدیق کی ہے اور کارل مارکس کے نظریہ کو باطل ٹھہرایا ہے۔ اس طرح دوبارہ ثابت ہوا کہ پیغمبر اسلام کی رہنمائی الہامی رہنمائی ہے اور دوسرے تمام لوگوں کے نظریات ان کے اپنے محدود ذہن کی پیداوار ہیں جو ابدی حقائق کے سامنے ٹھہرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ پیغمبر اسلام کی صداقت کی یہ کیسی عجیب دلیل ہے کہ آپ کا پیغام زندگی کی تبدیلیوں کے باوجود اپنی صداقت کو مسلسل باقی رکھے ہوئے ہے۔ جب کہ دوسرے انسانوں کے نظریات بار بار زمانی حقائق سے ٹکرا جاتے ہیں۔ وہ وقتی طور پر اپنی چمک دکھاتے ہیں اور اس کے بعد حرف باطل ثابت ہو کر حقائق کے علم اجالے ہیں۔ وہ دیور پر اپنی چمک دکھاتے ہیں اور تاریخ کی الماری میں چلے جاتے ہیں۔ کے بعد اس بات ہو ر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader