Urdu book · کاروانِ ملّت

اسلامی جہاد

Urdu book, p. 58

By Maulana Wahiduddin Khan

کرنا ہے۔ کیوں کہ جو شخص لوگوں کی زیادتیوں کو برداشت نہ کرے وہ مشتعل ہو جائے گا، اور مشتعل آدمی اس دنیا میں کبھی کوئی صحیح اور سنجیدہ کام نہیں کر سکتا۔ اس قسم کی ضروری صفات کا ثبوت وہی شخص دے سکتا ہے جو مومن ہونے کے ساتھ مجاہد بن جائے، جو قربانی کی سطح پر اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لئے تیار ہو۔ تصدیق رسالت ہندوستان ٹائمز (۱۹ اگست (۱۹۹۰) نے امریکی صحافی (Karen Tumulty) کی ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کے پاس اس وقت اتنے زیادہ ہتھیار ہیں جو دنیا کی پوری آبادی کو پانچ ہزار بار ہلاک کرنے کے لئے کافی ہیں: Enough to kill everyone in the world 5,000 times. رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سوویت روس کے پاس بھی تقریبا اتنے ہی ہتھیار ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ اور روس پچھلے ۷۰ سال سے ایک دوسرے کے سخت ترین دشمن بنے ہوئے تھے۔ ہر ایک دوسرے کو ہلاک کرنے کی دھمکی دے رہا تھا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ہتھیاروں کے اتنے بڑے ڈھیر کا مالک ہو کر وہ ان کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ کر سکے۔ بلکہ دونوں نے باہم یہ معاہدہ کر لیا کہ وہ کبھی ایک دوسرے سے لڑائی نہیں کریں گے۔ اس کی وجہ زمانہ کا فرق ہے۔ قدیم زمانہ میں لڑائی تلواروں کے ذریعہ ہوتی تھی۔ تلوار صرف اس آدمی کی گردن کاٹتی ہے جس کے اوپر تلوار چلائی گئی ہے۔ اس سے زیادہ تلوار کا کوئی مزید نقصان نہیں۔ مگر موجودہ زمانہ کے ہتھیاروں کا معاملہ یہ ہے کہ اگر ان کو استعمال کیا جائے تو ان کا نقصان تباہ کن گییسوں، ہلاکت خیز شعاعوں اور دوسرے مضر اثرات کی صورت میں ساری زمین پر پھیل جاتا ہے۔ حتی کہ اس کا نقصان خود اس قوم تک پہنچ جاتا ہے جس نے اپنے دشمن کے خلاف ان مہلک ہتھیاروں کو استعمال کیا تھا۔ اس واقعہ نے اب ہتھیاروں کی جنگ کو بے معنی بنا دیا ہے۔ چنانچہ موجودہ دنیا کے تمام انسان اختلافی معاملات میں پرامن بات چیت پر زور دے رہے ہیں۔ اب ساری دنیا میں کوئی بھی شخص جنگ وقتال کی وکالت کرنے والا نہیں۔ زمانہ کی اس تبدیلی نے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کو ایک نئے عنوان سے ثابت شدہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page