کاروان ملت
Urdu book, p. 67
By Maulana Wahiduddin Khan
اس رہنمائی میں بیک وقت دو غلطیاں تھیں ۔ اس میں انتہائی معصومانہ طور پر یہ فرض کر لیا گیا کہ مسلمانوں کے ہاتھ میں قرآن ہے اور ان کے دل میں اللہ کا خوف موجود ہے ۔ حالانکہ اصل واقعہ یہ تھا کہ صدیوں کے زوال کے نتیجہ میں قرآن سے مسلمانوں کا رشتہ ٹوٹ چکا تھا، اور قساوت کے نتیجہ میں ان کے دل اللہ کے خوف سے خالی ہو چکے تھے۔ ایسی حالت میں ضرورت تھی کہ لمبی اور خاموش جد وجہد کے ذریعہ جدید مسلم نسلوں کے دماغ میں دوبارہ مستر آن کی روشنی پیدا کی جائے اور ان کے دلوں کو دوبارہ خدا کے خوف سے کانپنے والا بنایا جائے ۔ یہ ایک بے حد صبر آزما کام تھا ۔ مگر مسلم رہنماؤں نے اس داخلی محاذ پر محنت کیے بغیر خارجی نعروں پر قوم کو دوڑانا شروع کر دیا ۔ چنانچہ ان کی ساری کوششوں کا انجام اس چھت کا سا ہوا جو دیمک زدہ لکڑی کے اوپر کھڑی کر دی گئی ہو۔ اس رہنمائی میں دوسری بھیانک غلطی یہ تھی کہ انھوں نے زمانہ کے فرق کو نہیں سمجھا۔ قدیم زمانہ میں "تلوار" طاقت کا نشان تھی، موجودہ زمانہ میں "علم" طاقت کا نشان ہے۔ مگر مسلم رہنما اندرونی حد تک اس فرق سے بے خبر رہے ۔ انھوں نے ناقابل فہم نادانی کے تحت سائنس کے دور میں ہر طرف تلوار کا ترانہ گانا شروع کر دیا ۔ اس غلط رہنمائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ پوری کی پوری نسل جنگ جو یا نہ ذہنیت میں مبتلا ہو گئی۔ ہر شخص بس جنگ اور ٹکراؤ کی اصطلاحوں میں سوچنے لگا ۔ جس کے پاس تلوار ہی جنگ چھیرنے کا موقع تھا ۔ اس نے اپنے مفروضہ دشمنوں کے خلاف تلوار ہی جنگ چھیڑ دی۔ اور جن لوگوں کے پاس صرف الفاظ تھے ، انھوں نے الفاظ کی لامتناہی کم باری کا مشغلہ اپنے لیے اختیار کر لیا۔ اس انداز کار کے نتیجہ میں نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ اب مسلمانوں میں وہی آوازیں مقبولیت کا درجہ حاصل کرتی ہیں جو جنگ جو یانہ لہجے میں بولی گئی ہوں ۔ تعمیر اور حقیقت پسندی کی بات مسلمانوں کو اپیل نہیں کرتی ۔ جنگ جو یانہ نعروں پر فی الفور ان کی بھیڑ جمع کی جا سکتی ہے مگر پر امن اور خاموش پروگرام کے نام پر انھیں بلائیے تو آپ کا پنڈال بالکل سونا پڑا رہے گا ۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا پورا ادب اور ان کی تمام سرگرمیاں اسی نہج پر قائم ہوگئی ہیں ۔ ان کی ہر تحریک میں کسی نہ کسی اعتبار سے یہی روح کارفرما ہے۔ آپ ان کے جس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader