Urdu book · کاروانِ ملّت

کاروان ملت

Urdu book, p. 63

By Maulana Wahiduddin Khan

فکری یا عملی رخ کا مطالعہ کیجئے، ہر جگہ آپ کو اسی کی جھنکار سنائی دے گی۔ نثر کے دور میں شاعری، خاموش تدبیر کے دور میں خطابَت ، عملی منصوبہ بندی کے دور میں لفظی ہنگامہ آرائی۔ تعمیر کے دور میں تخریب، پر امن جدوجہد کے دور میں عسکری سرگرمی، سائنسی تفکیر کے دور میں روایتی تفکیر، حقائق کی بنیاد پر اٹھنے کے دور میں خوش خیالیوں کی بنیاد پر اٹھنے کا خواب ـــــــــــ سب اسی کے مظاہر ہیں، اور یہی مختصر طور پر موجودہ زمانہ کے تمام مسلم رہنماؤں کی رہنمائی کا خلاصہ ہے۔ اس قسم کی ہر کوشش خلاف زمانہ حرکت (anachronism) کی مصداق سکتی، اور خلافِ زمانہ حرکت کبھی کسی کے لیے نتیجہ خیز نہیں ہو سکتی۔ ملت کے کارواں کو دوبارہ متحرک کرنے کے لیے شاعری اور خطابت اور انشا پردازی کا انداز صرف الٹا نتیجہ پیدا کرنے والا ہے۔ اس قسم کی پرجوش لفظی کا نتیجہ صرف یہ ہو سکتا ہے کہ ایک پچھڑی ہوئی قوم دوبارہ خوش فہمیوں کے گڑھے میں گر کر رہ جائے۔ اس وقت کرنے کا کام یہ ہے کہ ملت کے افراد میں دوبارہ سچی دینی روح پیدا کی جائے۔ ان کو "کلمہ گو" کی سطح سے اٹھا کر "کلمہ فہم" کی سطح پر لایا جائے ۔ تقلیدی ایمان کی جگہ ان کے اندر زندہ اور شعوری ایمان پیدا کیا جائے ۔ ان کے عقیدہ کو دوبارہ فکری انقلاب بنا دیا جائے ۔ دوسرا کام یہ ہے کہ ملت کو عصر حاضر کے تقاضوں سے باخبر کیا جائے ۔ ایک روایت میں مومن کو بصیرا بسزمانه (اپنے زمانہ سے باخبر انسان) بتایا گیا ہے۔ یہ بلاشبہ انتہائی اہم ہے۔ اس کے بغیر ملت کا قافلہ اپنی مطلوبہ منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ اسی کے ساتھ یہ بھی لازمی طور پر ضروری ہے کہ مسلمانوں کو ایک داعی گروہ کی حیثیت سے اٹھایا جائے کسی قوم کے اندر بلند فکری اور اعلیٰ حوصلگی کی خصوصیات ہمیشہ اس وقت پیدا ہوتی ہیں جب کہ اس کے پاس کوئی برتر عالمی پیغام ہو جس کی تمام قوموں کو ضرورت ہو۔ کسی قوم کی سب سے بڑی نفسیاتی دولت اس کا یہ احساس ہے کہ اس کے پاس ایک اعلیٰ نظریہ ہے، ایک ایسا نظریہ جو اپنی صداقت اور نفع بخشی کی بنا پر اس قابل ہے کہ وہ تمام اقوام عالم تک پہنچے۔ یہ احساس ہی دراصل وہ سب سے بڑا سر چشمہ ہے جو کسی قوم کے افراد میں بلند ہمتی اور اولو العزمی کے تمام اعلیٰ اوصاف پیدا کرتا ہے۔ مسلمانوں کو دعوت کی بنیاد پر کھڑا کرنا ایک طرف خدا کے پیغام کو اس کے بندوں تک پہنچانے کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page