Urdu book · کاروانِ ملّت

باب اول

Urdu book, PDF p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

احیاءِ ملت پاکستان کے مشہور اخبار نوائے وقت (۳۰ مئی ۱۹۹۰) میں ایک مضمون نظر سے گزرا۔ اس مضمون میں مسلمانوں کی عالمی زبو حالی کا ذکر تھا اور اس کا عنوان حسب ذیل لفظوں میں قائم کیا گیا تھا: امت پہ تری آکے عجب وقت پڑا ہے یہ مصرعہ در اصل "مسدس حالی" سے لیا گیا ہے۔ اس منظوم کتاب کے آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جناب میں ایک مناجات شامل کی گئی تھی۔ اس مناجات کا پہلا شعر یہ تھا: اے خاصۂ خاصانِ رسل! وقت دعا ہے امت پہ تری آکے عجب وقت پڑا ہے سو سال پہلے جب الطاف حسین حالی نے اپنی یہ کتاب تیار کر کے سر سید احمد خاں (۱۸۹۸-۱۸۱۷) کو دی، تو سر سید اتنا خوش ہوئے کہ انھوں نے کہا: خدا اگر قیامت میں پوچھے کہ کیا لائے تو میں کہوں گا کہ حالی سے مسدس لکھوا لایا ہوں اس وقت سے لے کر اب تک مسلمانوں کے درمیان بے شمار رہنما اٹھے، بے شمار بڑی بڑی تحریکیں ابھریں۔ ان رہنماؤں اور ان تحریکوں کے غلغلہ سے زمین و آسمان گونج اٹھے۔ مگر یہ تمام کی تمام تحریکیں سراسر بے نتیجہ رہیں۔ وہ مسلمانوں کی حالتِ زوال کو دوبارہ حالتِ عروج تک پہنچانے والی ثابت نہیں ہوئیں ۔ حالی کا شعر سو سال بعد بھی دہرایا جارہا ہے ۔ مسلم رہنماؤں کی سو سالہ کوششیں کیوں حبطِ اعمال کا نمونہ بن کر رہ گئیں ۔ اس کا جواب بالکل سادہ ہے ۔ انھوں نے مرض کی تشخیص میں غلطی کی ، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اپنی ساری کوششیں غلط مقام پر صرف کرتے رہے ۔ وہ ملت کے درخت کی پتیوں پر پانی ڈالتے رہے ۔ جب کہ اصل ضرورت یہ تھی کہ ملت کے درخت کی جڑ کو پانی سے سیراب کیا جائے۔ ہمارے تقریباً تمام رہنماؤں نے کارِ اول کو چھوڑ کر کارِ ثانی پر اپنی ساری توجہ صرف کر دی۔ وہ بنیاد کی تعمیر سے پہلے چھت کھڑی کرنے میں لگے رہے ۔ وہ تیاری کے بغیر اقدام کی نادانی کرتے رہے۔ ایسی جد و جہد کے لئے موجودہ دنیا میں یہی مقدر ہے کہ وہ بے نتیجہ ہو کر رہ جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page