Urdu book · کاروانِ ملّت

باب اول

Urdu book, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک مثال ایک شخص کے یہاں دو چھوٹے بچے ہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ اپنے بچوں کے بارہ میں اپنی ذمہ داریاں جاننے کے لئے قرآن و حدیث کا حکم معلوم کرے۔ اب ایک صورت یہ ہے کہ وہ پیغمبر اسلام کے اس قول کو اپنا رہ نما بنائے کہ: ما نحل والده من نَحْل أفضل من أدب حسن (۱۳۸۹/۳) جو شخص اس حدیثِ رسول سے اپنا حکم اخذ کرے اور اس کی رہنمائی میں اپنے عمل کا نقشہ بنائے، وہ کیا کرے گا۔ وہ اپنی ساری توجہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر لگا دے گا۔ وہ کوشش کرے گا کہ اس کے بچے جب بڑے ہوں تو وہ علم اور اخلاق کے اعتبار سے پوری طرح تیار ہوں۔ وہ خدا کے حقوق کو اور اپنی ذمہ داریوں کو اچھی طرح سمجھ سکیں۔ وہ اس قابل ہو چکے ہوں کہ زندگی کے شعور سے پوری طرح مسلح ہو کر زندگی کے میدان میں داخل ہوں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ مذکورہ آدمی "نکاح" کی آیتوں اور حدیثوں سے اپنی ذمہ داریوں کا تعین کرے مثلاً وہ اس حدیثِ رسول سے اپنا حکم معلوم کرے کہ: عليكم بالباءةِ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْج ( الترندی، الباب النکاح) جو آدمی اس حدیثِ رسول سے اپنا حکم اخذ کرے، وہ اپنے بچوں کے بارہ میں کس چیز کو اپنی ذمہ داری سمجھے گا۔ وہ سمجھے گا کہ سب سے ضروری کام بچوں کے نکاح کا انتظام کرنا ہے۔ وہ اپنی بچی کے لئے ایک شوہر اور اپنے بچہ کے لئے ایک بیوی کی تلاش میں مصروف ہو جائے گا۔ اور چاہے گا کہ جلد سے جلد ان کا جوڑ فراہم کر کے ان کا نکاح کر دے، خواہ ہندوستان کی بعض پست اقوام کی طرح اس کو ایسا کیوں نہ کرنا پڑے کہ وہ دولہا اور دلھن کو اپنی گوہ میں بٹھا کر مقامِ نکاح تک لے جائے ۔ موجودہ زمانہ میں احیاء امت کے معاملہ میں ہمارے رہنماؤں نے وہی غلطی کی ہے جو غلطی وہ شخص کرے گا، جو اپنے چھوٹے بچوں کے بارہ میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لئے نکاح کے حکم کو اپنا پہلار ہنما بنالے۔ آج کے مسلمان موجودہ زمانہ میں جو مسلم نسلیں ہیں، ان کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ زوال کا شکار ہو گئیں۔ اب ضرورت تھی کہ ان کو دوبارہ عروج کی طرف لے جایا جائے ۔ موجودہ زمانہ میں ہزاروں کی تعداد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page