دورِ جدید کی مسلم تحریکیں
Urdu book, p. 86
By Maulana Wahiduddin Khan
پڑی۔ کیوں کہ مسلمان ہی اس وقت سب سے بڑی عالمی قوت کی حیثیت رکھتے تھے۔ اس عمل کی انتہا انیسویں صدی میں ہوئی۔ اس صورت حال نے مسلمانوں کو متاثر کیا۔ ہر مسلم ملک میں ایسے لوگ ابھرے جو ماضی کی عظمت کو دوبارہ واپس لانے کا پیغام دیتے تھے۔ سید جمال الدین افغانی (۱۸۹۷ء۔۱۸۳۸ء) اور محمد علی جوہر (۱۹۳۱ء۔۱۸۷۸ء) کو اس دور کا نمائندہ کہا جاسکتا ہے۔ ان لوگوں کی زندگی کے حالات پڑھیے تو واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ چیز جس نے انھیں ابھارا اور عمل کے میدان میں کھڑا کیا وہ مغربی قوموں کا اسلامی ممالک پر غلبہ تھا۔ ان قوموں نے نہ صرف مسلم ملکوں کو سیاسی طور پر مغلوب کیا تھا بلکہ اسلامی آثار اور اسلامی امتیازات کو مٹانے کی ایک مسلسل مہم جاری کر دی تھی، اس صورت حال نے سید جمال الدین افغانی اور محمد علی جوہر جیسے لوگوں کو تڑپایا اور وہ مغربی قوموں سے لڑنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ باعتبارِ محرک وہ جوابی ذہن کے تحت ابھرے تھے نہ کہ مثبت ذہن کے تحت۔ دوسرے مرحلہ کی تحریکیں وہ ہیں جن کی نمائندگی سید ابوالاعلیٰ مودودی (۱۹۰۳ء-۱۹۷۹ء) اور سید قطب شہید (۱۹۶۶ء-۱۹۰۶ء) جیسے لوگوں نے کی۔ اس دوسرے مرحلہ کے افراد کے حالاتِ زندگی کو پڑیے تو دوبارہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ بھی اسی سیاسی اور تہذیبی المیہ سے متاثر ہو کر ابھرے جس سے متاثر ہو کر پہلے مرحلہ کے لوگ ابھرے تھے۔ دونوں ہی یقینی طور پر ردِ عمل کی پیداوار تھے۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے مرحلہ کے افراد نے اپنے ردِ عمل کو سادہ طور پر صرف ردِ عمل کے انداز میں پیش کیا اور دوسرے مرحلہ کے افراد نے اپنے ردِ عمل کے ساتھ وہ معاملہ کیا جس کو انگریزی میں "فیلو سوفائزنگ" کرنا کہتے ہیں۔ یعنی انھوں نے اپنے رد عمل کو فکر اور فلسفہ بنا کر پیش کیا۔ انھوں نے اس کو ایک مستقل تعبیر کی حیثیت دے دی۔ پہلے مرحلہ کے لوگوں کا عمل اگر سیاسی دفاع تھا تو دوسرے مرحلہ کے افراد کا عمل سیاسی تعبیر۔ ردِ عمل کی نفسیات کے تحت اٹھنے والے آدمی کی بنیادی کمزوری یہ ہے کہ وہ ہمیشہ پیش نظر مسئلہ کو دیکھتا ہے نہ کہ اصل حقیقتِ واقعہ کو۔ اس کی نظر وقتی صورتِ حال پر ہوتی ہے نہ کہ ابدی صورتِ حال پر۔ یہی موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں کے ساتھ پیش آیا۔ ان کی ردِ عمل کی نفسیات نے ان سے مثبت طرزِ فکر کو چھین لیا۔ ان کی پوری سوچ منفی سوچ بن گئی۔ جس کا نتیجہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader