Urdu book · کاروانِ ملّت

دورِ جدید کی مسلم تحریکیں

Urdu book, p. 84

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوا کہ ان کی تفکیر بھی صراط مستقیم سے ہٹ گئی اور ان کی عملی منصوبہ بندی بھی۔ یہاں ہم اس معاملہ کے چند پہلوؤں کا ذکر کریں گے۔ ۱۔ ایک حدیث ہے جس کے الفاظ یہ ہیں : الا ان فی الجسد مضغة اذا صلحصلح آگاه، جسم کے اندر گوشت کا ایک ٹکڑا ہے ۔ وہ الجسد كله واذا فسدت فسد الجسد درست ہو تو پورا جسم درست رہتا ہے۔ وہ بگڑ كله الا وهي القلب ۔ (متفق عليه) جائے تو پورا جسم بگڑ جاتا ہے۔ آگاہ، اور وہ قلب ہے ۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ اصلاحی عمل کا مقام آغاز کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مقام آغاز انسان کا دل ہے ۔ قلب (یا ذہن) کی اصلاح سے اعمال کی اصلاح ہوتی ہے۔ جب کبھی لوگوں کے اندر عمل کی کمی نظر آئے تو اس قول رسول کے مطابق ہمیں پیشگی طور پر یہ یقین کرنا چاہیے کہ اس کا سبب انسان کے قلب میں ہوگا۔ عمل کا بگاڑ قلب کے بگاڑ کا نتیجہ ہے اور عمل کی اصلاح قلب کی اصلاح کا نتیجہ ۔ یہ نکتہ مخصوص نفسیات کی بنا پر ہمارے رہنماؤں سے اوجھل ہو گیا۔ وہ اس راز کو سمجھنے میں ناکام رہے جو قرآن و حدیث میں اور رسول اللہ کی سیرت میں واضح طور پر موجود تھا۔ چنانچہ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں نے اپنے تجدیدی کام کا آغاز تجدید نظام سے کیا۔ حالاں کہ تجدیدی کام کا صحیح آغاز یہ تھا کہ اس کو تجدید روح سے شروع کیا جاتا۔ دور زوال میں ہمیشہ قوموں سے جو چیز غائب ہوتی ہے وہ اسلامی روح ہے۔ اس لیے اسلامی روح کو از سر نو زندہ کرنا ہی تجدید دین کا پہلا کام ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں کے ذہن پر چونکہ سیاسی نظام کے ٹوٹنے کا غم سمایا ہوا تھا اس لیے اپنی نفسیات کے تقاضے کے تحت انھوں نے یہ سمجھا کہ اس وقت کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ اسلام کے سیاسی نظام کو دوبارہ بحال کیا جائے۔ چنانچہ انھوں نے اپنی ساری کوششیں تجدید نظام کے محاذ پر وقف کر دیں۔ مگر یہ ایسا ہی تھا جیسے ایک ٹوٹے ہوئے گھر کو دوبارہ بنانے کے لیے یہ کیا جائے کہ اس کو بنیادوں اور دیواروں کے بغیر چھت کی طرف سے کھڑا کرنے کی کوشش کی جائے۔ ظاہر ہے کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page