پیش لفظ
Urdu book, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
آج کی اہم ترین خبر یہ ہے کہ عراق نے کویت کے تیل کے سیکڑوں کنوؤں میں آگ لگادی ہے جس کے نتیجہ میں وہاں آگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور فضا میں کالا دھواں چھاگیا ہے۔ ہندوستان ٹائمس (۲۳ جنوری) کی پہلی سرخی یہ تھی کہ کویت کے تیل کے کنویں اڑا دیے گئے (Kuwait oilwells blown up) غالباً صدام حسین کو اب یہ یقین نہیں رہا ہے کہ وہ کویت کو اپنے قبضہ میں رکھ سکتے ہیں۔ اس لیے انھوں نے کویت کے تیل کے کنوؤں کو برباد کرنا شروع کر دیا ہے۔ تاکہ کویت کو چھوڑنا ہو تو اس طرح چھوڑیں کہ وہاں کچھ باقی نہ رہے۔ تقریباً ۳۵ ملین گیلن تیل انھوں نے سمندر میں بہادیا۔ صدام حسین نے حال میں عراق کے جھنڈوں پر اللہ اکبر لکھوایا تھا۔ وہ اپنی موجودہ جنگ کو اسلامی جہاد کہتے ہیں۔ ان کے اس قسم کے نعروں سے متاثر ہو کر ساری دنیا میں مسلمانوں کی اکثریت اس فریب میں پڑ گئی کہ واقعہ یہ اسلام اور کفر کی جنگ ہے۔ مگر جو لوگ خدا کی نعمتوں میں آگ لگائیں وہ کبھی اسلام کے مجاہد نہیں ہوسکتے۔ خلیفہ اول نے خلافت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اسامہ کی سرکردگی میں شام کی طرف مہم روانہ کی تو ان کو یہ ہدایت دی کہ تم لوگ وہاں کوئی درخت نہ کاٹنا (لا تقطعوا شجراً) جنگ میں " ایک درخت " کاٹنا بھی منع ہے۔ پھر تیل کے کنوئیں کو جلانا تو اس سے ہزاروں گنا زیادہ بڑی برائی ہے۔ تیل کے کنوئیں کو جلانے سے صرف تیل کا قدرتی ذخیرہ ہی برباد نہیں ہوتا بلکہ اس سے جو دھواں نکلتا ہے وہ آس پاس کی پوری فضا کو مہلک گیس سے بھر دیتا ہے۔ تیل کا ذخیرہ کسی شخص کی ملکیت نہیں۔ وہ انسانیت کے لیے اللہ کا ایک قیمتی عطیہ ہے۔ وہ خدا کی ایک قیمتی امانت ہے۔ انسان اس کو استعمال کرنے کا حق رکھتا ہے مگر وہ اس کو ضائع کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ تیل کے ذخیرہ کو قصد اً برباد کرنا خدا کی امانت میں ظالمانہ تصرف کرنے کے ہم معنی ہے جو بلا شبہ ناقابل معافی جرم ہے (تفصیل کے لیے: سائنس رپورٹر، نئی دہلی ، مارچ ۱۹۹۱) صدام حسین نے تیل کے کنوؤں میں آگ لگائی۔ تیل کو سمندر میں بہا کر نہ صرف انسانوں کے لیے بلکہ چڑیوں اور مچھلیوں تک کے لیے خطرناک مسائل پیدا کر دیے۔ اس کے باوجود مسلمان صدام حسین کو" مجاہد اسلام "کا لقب دیے ہوئے ہیں۔ جو لوگ اسلامی جہاد کا نام لیں مگر وہ اسلام کے احکام پر عمل نہ کریں، ایسے لوگوں کا کیس جہاد کا کیس نہیں بلکہ سرکشی کا کیس ہے۔ وہ سزا کے مستحق ہیں نہ کہ انعام کے مستحق۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader