Urdu book · خلیج ڈائری

پیش لفظ

Urdu book, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

خلیج کی ہولناک جنگ جاری ہے۔ دونوں طرف سے زبردست نقصانات ہو رہے ہیں۔ انسان مارے جا رہے ہیں۔ شہر تباہ ہو رہے ہیں۔ سمندروں اور فضاؤں میں زہریلے اثرات پھیل جانے کی وجہ سے یہ حالت ہے کہ چڑیاں اور مچھلیاں تڑپ تڑپ کر مر رہی ہیں۔ اس تباہ کن جنگ پر صرف امریکہ کے زیر قیادت اتحادی فوجوں (الائیڈ فورسز) کا خرچ تقریباً ایک بلین ڈالر روزانہ ہے۔ جنگ لڑنے والے ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ وہ انسانی فلاح کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں۔ خلیج کی موجودہ جنگ میں امریکہ کے زیر قیادت ۲۸ ملکوں کا اتحادی گروہ یہ کہتا ہے کہ وہ ایک کمزور قوم کے ساتھ ایک طاقت ور کی جارحیت کے خلاف لڑ رہا ہے۔ صدام حسین کے نزدیک اس جنگ کا مقصد ماضی کی غلطی کی اصلاح ہے یعنی کویت، جو اُن کے نزدیک عراق کا حصہ تھا، اس کو دوبارہ عراق میں شامل کیا جائے۔ ۱۸۹۸ء میں امریکن اسپینش جنگ چھڑی۔ اس وقت برطانیہ اور دوسرے یورپی ملکوں کے سفیر واشنگٹن میں جمع ہوئے تاکہ امریکہ کے صدر میک کنلے کو جنگ سے اعتراض پر آمادہ کریں۔ اس وقت دونوں کے درمیان جو بات چیت ہوئی، اس کا خلاصہ امریکی اخبار میں اس طرح بیان کیا گیا تھا کہ سفیروں نے کہا کہ ہم کو امید ہے کہ انسانیت کی خاطر آپ جنگ نہیں کریں گے۔ صدر نے جواب دیا کہ ہم کو امید ہے اگر ہم جنگ کریں تو یہ عین انسانیت کی خاطر جنگ ہوگی : Their ambassadors in Washington had a meeting with the US President, and the diplomatic exchanges were summarised by the New York World, of April 8, 1898, thus: Said the six ambassadors: "We hope for humanity's sake you will not go to war." Said Mr McKinley in reply: "We hope if we do go to war, you will understand that it is for humanity's sake." پچھلے پچاس سال میں صرف "تیسری دنیا" میں تین سو چھوٹی بڑی لڑائیاں ہو چکی ہیں۔ ان میں سے ہر فریق اپنے آپ کو برحق بتاتا ہے۔ یہ صورت حال آخرت کو ایک لازمی اخلاقی ضرورت ثابت کر رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر آخرت نہ آئے تو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ کون شخص حق پر تھا اور کون شخص ناحق پر۔ جنگ چھیڑنا اپنے اختیار میں ہے مگر جب جنگ چھڑ جائے تو اس کی تباہی اپنے اختیار میں نہیں ہوتی۔ عقلمند وہ ہے جو جنگ کی نوبت ہی آنے نہ دے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page