پیش لفظ
Urdu book, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
ہندوستان ٹائمنس (۲۶ جنوری) میں صدام حسین کے اس محل کی تفصیل چھپی ہے جو انہوں نے بغداد میں بنوایا ہے۔ اس کی سرخی یہ ہے صدام اپنے اس محل کے تہ خانہ میں ایک سال تک رہ سکتے ہیں : Saddam can live 1 year in his bunker اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بغداد کا یہ صدارتی محل ۱۲۰ فٹ گہرا ہے اور پورالو ہے اور سمنٹ پر بنایا گیا ہے۔ وہ مکمل طور پر ایر کنڈیشنڈ ہے۔ اس میں نیچے سے اوپر تک لفٹ کا انتظام ہے۔ صدام حسین اس میں ایک سال تک ایٹمی حملے سے محفوظ حالت میں رہ سکتے ہیں۔ اس میں ایک زمین دوز ذخیرہ آب سے پانی پہنچایا جاتا ہے جو محل سے ۲۰۰ میٹر فاصلہ پر واقع ہے۔ وغیرہ ایک فرینچ انجینئر جس نے اس محل کو بنانے میں مدد کی تھی، اس نے کہا کہ جب آپ لفٹ کے ذریعہ اس زمین دوز محل میں اتریں تو آپ ایک نہایت موٹے دروازہ سے گزر کر صدام حسین کے دفتر میں پہنچیں گے۔ صدام حسین کی اندرونی رہائش گاہ تک پہنچنے کے لیے کئی ایسے چیمبر سے گزرنا ہوتا ہے جو صرف کوڈ کے ذریعہ کھلتے ہیں۔ اس کے لیے میگنیٹک کارڈ استعمال کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح کے اور بہت سے خفیہ حفاظتی انتظامات ہیں جن کی تفصیل ڈیلی ٹیلی گراف نے چھاپی ہے۔ اس محل کے اندر ہر قسم کے تمام ضروری سامان کیے گئے ہیں۔ اس کے اندر ایسا کمیونی کیشن نظام ہے کہ صدام حسین اس کے اندر رہتے ہوئے تمام ملک سے اور پوری افواج سے مسلسل ربط قائم رکھ سکتے ہیں۔ وہ یہیں سے اپنی قوم کے نام ٹی وی پر پروگرام نشر کرتے ہیں۔ صدام حسین کوئی چیز اس وقت تک نہیں کھاتے جب تک کوئی دوسرا شخص ان کے سامنے اس کو چکھ نہ لے۔ فرانسیسی انجینئر نے کہا کہ صدام حسین اس زمین دوز محل میں لمبی مدت تک رہ سکتے ہیں اور یہاں سے جنگ کی رہنمائی کر سکتے ہیں : Saddam Hussein could survive and function from this emplacement for a long time. اس قسم کا زمین دوز محل بنا کر ’’ام المحارب‘‘ میں فتح کا خواب دیکھنا صرف صدام حسین کی کم عقلی کا ثبوت ہے۔ یہ ’’کلھیا میں گڑ پکانا‘‘ ہے۔ اور جو شخص کلھیا میں گڑ پکائے اس کا گڑ اس عالم اسباب میں کبھی تیار نہیں ہوتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader