Urdu book · خلیج ڈائری

پیش لفظ

Urdu book, p. 104

By Maulana Wahiduddin Khan

ٹائمس آف انڈیا (۲۵ جنوری) میں اردو پریس کے بارے میں ایک رپورٹ چھپی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ممبئی کے اردو روزنامہ ”اردو ٹائمز“ پر مسلمانوں کے ایک اشتعال ہجوم نے سنگ باری کی۔ اس کی کاپیاں سڑک پر جلائی گئیں ۔ اخبار کے ملازموں کو دھمکیاں دی گئیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اردو ٹائمز واحد اردو پر چہ ہے جس نے خلیج کی جنگ میں صدام حسین کی مذمت کی اور سعودی حکومت کی موافقت کی پالیسی اختیار کی۔ عدم برداشت کا یہ مزاج کسی حقیقی صحافت کو وجود میں لانے کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔ آج کل تمام اردو اخبارات پر جوش طور پر صدام حسین کی حمایت کر رہے ہیں۔ ان کو صلاح الدین ایوبی اور ” صدام مجاہدِ اسلام “ لکھا جا رہا ہے۔ مسلم علاقوں میں صدام حسین کی تصویریں ہاٹ کیک کی طرح بک رہی ہیں۔ جن اردو اخبارات کی اشاعت بہت کم تھی، انھوں نے صدام حسین کی حمایت میں جذباتی مضامین لکھ کر اپنی اشاعت بہت زیادہ بڑھالی۔ مسلمانوں میں وہی اخبارات مقبول ہو رہے ہیں جن میں اس قسم کی سرخیاں ہوں : ”عراقی میزائلوں سے اسرائیل کی نیند حرام “، ”بش نے صدام کے آگے گھٹنے ٹیک دیے “ وغیرہ مسلم صحافت کا اور مسلمانوں کا یہ حال دیکھ کر مجھے دوسری عالمی جنگ کا واقعہ یاد آتا ہے۔ اس زمانہ میں ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت تھی۔ مسلمان انگریزوں سے بے حد متنفر تھے۔ جنگ میں جب ہٹلر کی فوجوں نے برطانیہ پر بم گرائے تو مسلمان بہت خوش ہوئے۔ اخبارات میں ایک اردو شاعر کی نظم چھپ کر بہت مقبول ہوئی۔ اس کا عنوان تھا ”ہٹلر اعظم “، اس نظم میں ہٹلر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا تھا : خبر لینے بکنگھم کی جواب کی بار پھر جانا ہمارے نام کا بھی ایک گولہ پھینکتے آنا یہی جذباتیت آج مسلمانوں میں شدت سے ابھر آئی ہے۔ مسلمانوں کو یہودیوں اور عیسائیوں سے سخت نفرت ہے۔ صدام حسین نے عیسائیوں (امریکہ) کے بارہ میں کہا کہ تم کو خلیج عرب میں غرق کر دیا جائے گا۔ اور اسرائیل کے اوپر کچھ اسکڈ (Scud) میزائل پھینک دیے۔ اس کے بعد مسلمان ایک طرف سے صدام حسین کی حمایت کرنے لگے۔ مگر یہ صرف سطحیٹ ہے۔ اس کا تعلق نہ اسلام سے ہے اور نہ عقل سے۔ مسلمانوں کے اس مزاج نے اردو صحافت کو انتہائی حد تک سطحی بنا دیا ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اردو اخبارات پڑھنے والا آدمی عالمی حقیقتوں سے اتنا ہی بے خبر رہتا ہے جتنا غالب اور ذوق کا دیوان پڑھنے والا آدمی سائنسی علوم سے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page