پیش لفظ
Urdu book, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
نوائے وقت (۱۲ فروری) میں ملک امجد حسین ایڈوکیٹ کا مضمون چھپا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ خلیج کی جنگ نے پاکستانی عوام کو جذبات کی رو میں بہا دیا۔ وہ حقائق کو ملحوظ رکھ کر فیصلہ نہیں کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک صدام حسین اسلام کے ہیرو ہیں اور انھوں نے فلسطین کے مسئلہ کو زندہ کیا ہے۔ کویت پر قبضہ کے سلسلہ میں ان کا کہنا ہے کہ کویت تو عراق ہی کا حصہ تھا۔ اس کو ۱۹۱۸ میں انگریز نے اس سے علیحدہ کر کے ایک آزاد اور خودمختار ریاست کا درجہ دے دیا۔ مضمون نگار کے جواب کا ایک پیرا گراف یہ ہے : اگر بالفرض یہ تسلیم کر لیا جائے کہ انگریز نے اپنی مہلت کے تحت ۱۹۱۸ میں کویت کو عراق سے علیحدہ کر کے ایک آزاد اور خودمختار ریاست میں تبدیل کیا تب بھی ایسا کہنا حقیقت کا تقاضا نہیں۔ اس طرح تو پاکستان بھی ہم سبال پہلے ہندوستان کا حصہ تھا۔ اور بھارت والے یہ موقف اختیار کر سکتے ہیں کہ انگریز نے اپنے مفاد کے لیے اس کو ہندوستان سے کاٹ کر ایک علیحدہ ریاست بنا دیا، یہ کہ کر وہ زبردستی پاکستان پر قبضہ کر لیں۔ ایسا خیال تاریخی اور واقعاتی طور پر درست نہیں۔ (صفحہ ۳) اسی کا نام دہرامنطق ہے، اور دہرامنطق مسلمانوں کا خاص مزاج ہے۔ کویت پر عراقی قبضہ کے لیے وہ جس منطق کو درست سمجھتے ہیں، اسی منطق کو پاکستان پر ہندوستانی، فلسطین پر یہودی قبضہ کے لیے درست ماننے پر تیار نہیں۔ لکھنو کے عربی پرچہ الرائد (یکم فروری ۱۹۹۱) نے محمد وجدی قندیل کا ایک مضمون نقل کیا ہے۔ اس کا عنوان ہے ـــــــــ خلیجی لڑائی کا ذمہ دار کون (من المسئول عن الحرب) مضمون نگار نے خلیج کی جنگ کے تباہ کن نقصانات کا ذکر کیا ہے۔ پھر وہ لکھتے ہیں کہ جنگ کی اس آگ کو بھڑکانے کا ذمہ دار کون ہے، وہ کون ہے جس نے عراق کے اوپر جہنم کے دروازے کھول دیے۔ حقائق بتاتے ہیں کہ یہ صدام حسین ہیں جو اس جنگ کا سبب بنے۔ عراقی لیڈر شپ ہی اس ہیبت ناک المیہ کی ذمہ دار ہے جس کا سامنا عراق کو ہے (القيادة العراقية هي التى تتحمل المسئولية عن الماساة الرهيبة التي يتعرض لها العراق) صفحه ۶ یہ بات اسلامی اصول کے عین مطابق ہے۔ اسلام میں سبب کو دیکھا جاتا ہے نہ کہ نتیجہ کو۔ اس طرح کے معاملات خواہ جہاں بھی ہوں، صاحب سبب کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ مگر یہ سراسر اسلام کے خلاف ہے کہ آدمی ایک جگہ ایک دلیل استعمال کرے اور دوسری جگہ دوسری دلیل۔ ایک معاملہ میں وہ ایک طریقہ کا حامی ہو اور دوسرے معاملہ میں وہ دوسرے طریقہ کی حمایت کرنے لگے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader