Urdu book · خلیج ڈائری

پیش لفظ

Urdu book, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

لندن سے شائع ہونے والے عربی المجلۃ (۱۳-۱۹ فروری ۱۹۹۱) میں ڈاکٹر تحسین معلا کا انٹرویو چھپا ہے۔ موصوف نے جامعہ بغداد میں میڈیکل تعلیم حاصل کی ہے۔ ایک زمانہ میں وہ صدام حسین کے ذاتی معالج رہ چکے ہیں۔ ڈاکٹر معلا نے جنگ کے نتیجہ میں عراق کی تباہی کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ عراقی قوم آج سخت ترین مصیبت میں مبتلا ہے۔ اور یہ بلاشبہ ہر انسان کے لیے تکلیف دہ ہے مگر ان مصیبتوں کا اصل ذمہ دار انھوں نے "اتحادی طاقتوں" کو نہیں قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ اس کی ذمہ داری تمام تر عراقی لیڈر شپ پر ہے۔ عراق صدام حسین کے جرائم کی قیمت ادا کر رہا ہے (العراق يدفع ثمن جرائم صدام حسین) صفحہ ۴۴ اسی طرح ریاض کے عربی ہفت روزۃ الدعوة (۴ فروری ۱۹۹۱) میں اس کے "المحرر السياسی" کے قلم سے دو صفحہ کا ایک جائزہ چھپا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ جنگ کے نتیجہ میں فلسطینیوں کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا ہے، وہ ان عرب ملکوں سے کٹ گئے جو بلیینوں ڈالر کے ذریعہ مسلسل ان کی مدد کر رہے تھے اور اپنے یہاں ان کو عزت کی جگہ دیے ہوئے تھے۔ وہ اس قسم کے فوائد سے محروم ہو گئے۔ اس نقصان اور محرومی کا سبب عرب ممالک یا کوئی اور نہیں ہے بلکہ خود فلسطینیوں کی اپنی قیادت ہے۔ فلسطینی قوم نے بہت مہنگی اور بہت بھاری قیمت ادا کی ہے، اور اس کا سبب بعض فلسطینی لیڈروں کا وہ موقف ہے جو انھوں نے کویت پر قبضہ کے سلسلہ میں صدام حسین کے جرائم کی تائید کر کے اختیار کیا۔ (ان الشعب الفلسطيني دفع الثمن غالياً و باهظاً بسبب الموقف الذي اتخذته بعض القيادات الفلسطينيـة بتاييـد اجرام صدام حسين في احتلاله لدولۃ الكويت) صفحہ ۸ یہ نہایت صحیح بات ہے۔ مگر اس کا تعلق صرف کویت اور عراق سے نہیں ہے بلکہ ساری دنیا سے ہے۔ ہر جگہ (بشمول ہندوستان) آج مسلمانوں کو جن مشکلات اور مصائب کا سامنا ہے، ان سب کی واحد ذمہ داری موجودہ زمانہ کے مسلم لیڈروں پر آتی ہے نہ کہ مفروضہ "اسلام دشمنوں " پر۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم لیڈروں نے، تقریباً بلا استثناء، مسلمانوں کی نہایت غلط رہنمائی کی۔ وہ ان کو جذباتی نعروں پر دوڑاتے رہے۔ اس کے نتیجہ میں خود ان لیڈروں کو تو شہرت اور مقبولیت حاصل ہو گئی۔ مگر مسلم عوام کے حصہ میں اس کے سوا کچھ نہ آیا کہ ان کی مشکلات میں مزید بے پناہ اضافہ ہو گیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page