Urdu book · خلیج ڈائری

پیش لفظ

Urdu book, p. 27

By Maulana Wahiduddin Khan

المجلة (۱۳-۱۹ فروری) میں ایک احتجاجی جلوس (نظاھرۃ) کی تصویر ہے۔ یہ امریکہ میں بسنے والے عراقیوں کا جلوس ہے۔ وہ مختلف تختیاں اٹھائے ہوئے سڑک پر چل رہے ہیں۔ ایک تختی پر لکھا ہوا ہے : الجالية العراقية غير مسئولة عن جرائم صدام (عراقی مہاجرین صدام کے جرائم کے ذمہ دار نہیں) رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ممالک متحدہ امریکہ میں تین ملین عرب ہیں۔ ان میں ۸۰ ہزار عراق سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان عربوں کی دوسری نسل (بیٹوں اور پوتوں) میں اپنے قدیم وطن سے زیادہ گہرا لگاؤ نہیں۔ مگر پہلی نسل جو عرب سرزمین میں پیدا ہوئی تھی، وہ اپنے آبائی وطن سے بہت گہرا قلبی تعلق رکھتی ہے، ایک امریکی عرب نے کہا : ها انا ارى وطني الذي اخترته آج میں دیکھتا ہوں کہ جس وطن کو میں نے اختیار کیا اور و وطني الذى ولدت فيه يـتحاربان۔ جس وطن میں میں پیدا ہوا دونوں ایک دوسرے سے ها انا ارى وطن اولادي و احفادی لڑ رہے ہیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ میرے بیٹوں اور پوتوں في حرب مع وطن آبائي و اجدادی کا وطن میرے باپ اور دادا کے وطن سے بر سر جنگ ہے۔ (صفحه ۵۸) اسی طرح عرب اصل سے تعلق رکھنے والے (نیز دوسرے ملکوں کے مسلمان) بڑی تعداد میں فرانس، برطانیہ، جرمنی وغیرہ میں آباد ہیں۔ ہر جگہ وہ اسی نفسیاتی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ امریکہ اور دوسرے مغربی ملکوں میں یہ لوگ شک کی نظر سے دیکھے جا رہے ہیں۔ مقامی باشندے ان سے نفرت کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ جگہ جگہ ان کے خلاف تشدد کے واقعات ہو رہے ہیں۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب ساری دنیا میں مسلمانوں کا وہی حال ہو جائے گا جو حال ان کا ہندوستان میں ۴۷ء کے بعد ہوا ہے۔ مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں میں یہ مسلمان عزت اور خوش حالی کی زندگی گزار رہے تھے۔ مگر اب وہ ان ملکوں میں ذلت اور مشکلات کے درمیان رہنے پر مجبور ہوں گے۔ اس کی ذمہ داری اگرچہ وہ مغرب کی مفروضہ "اسلام دشمنی" کے خانہ میں ڈالیں گے مگر باعتبار حقیقت اس کی ذمہ داری خود مسلم لیڈروں کے سوا کسی اور کے اوپر نہ ہوگی۔________ دورِ اول کے مسلمان دوسرے ملکوں میں دعوتِ اسلام کے لیے گئے۔ انھوں نے دوسرے ملکوں کے مسائل کو حل کیا۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان دوسرے ملکوں میں طلب معاش کے لیے گئے۔ وہ خود مسائل کا شکار ہو کر رہ گئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page